"SUC" (space) message & send to 7575

متکبر، سنکی، خبطی سربراہ

اگر کالم کا یہ عنوان پڑھ کرآپ کا ذہن موجودہ دور کے کسی خاص سربراہِ مملکت کی طرف جاتا ہے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ میرے ذہن میں بھی وہی ہے۔ اس میں آپ کا یا میرا کوئی بھی قصور نہیں۔ قصور ہے تو اس تکبر ‘سنک ‘ خبط کا ‘جو کسی سربراہ میں کوٹ کوٹ کر بھردیے گئے ہوں‘یا پھر ان لوگوں کا جو جاننے پرکھنے کے باوجوداسے دماغی شفا خانے کے بجائے اس کرسی تک پہنچادیتے ہیں جہاں اس کی میز کے سامنے طاقت اور اختیار کے سارے بٹن استعمال کی ترغیب دے رہے ہیں۔
لیکن میرا ذہن ایک اور طرف بھی جاتا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی غیر متوازن شخص کو طاقت کے اعلیٰ ترین اختیارات مل گئے ہوں۔ تاریخ ان مریض افراد اور اقوام کے لرزہ خیز واقعات سے بھری پڑی ہے جن کا حوالہ ظلم‘ بربریت اور انسانی تاریخ کے بد ترین جرائم میں ہر بارآتا ہے۔ سکندر و چنگیز کے ہاتھوں سے جہاں میں سو بار حضرت ِانساں کی قبا چاک ہوتی رہی۔ مجھے تو حیرت ہے کہ ہر شہر او رہر ملک میں سروں کے مینار بنانے کے باوجود کئی اقوام مکمل ناپید ہوجانے سے کیسے بچ گئیں۔ غور کیجیے ‘بنی نوع انسان کیلئے ہمیشہ وہ دور مہلک ترین ثابت ہوا جب کسی ذہنی مریض یا نفسیاتی بیمار کو بے حساب طاقت مل جائے۔ جب تک اختیار اور طاقت نہیں تھی‘ ایسا مریض اپنے معاشرے کیلئے بھی زیادہ خطرناک نہیں تھا‘ لیکن طاقت مل گئی تو وہ پوری دنیا کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن کر سامنے آیا۔اس نے اپنی تسکینِ طبع کیلئے وہ وہ کام کیے جنہوں نے سینکڑوں ہزاروں نہیں ‘ کروڑوں زندگیاں ختم کرکے رکھ دیں۔ میرا یہ نظریہ نہیں ہے کہ تنہا وہ غیر متوازن شخص ساری صورتحال کا ذمہ دار ہوتا ہے‘ یقینا دیگر عوامل ‘ قوموں کی زیادتیاں اور ناانصافیاں بھی حتمی تباہی میں حصہ ڈالتی ہیں۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ ایک ہی دور کے کئی ذہنی مریضوں میں جو سربراہی تک پہنچتے ہیں ‘ سب سے بڑا اور خطرناک ذہنی بیمار ایک ہوتا ہے اور بدقسمتی سے وہی طاقتور ترین ہوتا ہے۔ یہ سب مل کر دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کرتے ہیں۔ لیکن قدرت کا عجیب نظام ہے۔ کسی قوم کے عین بھرپورعروج کے زمانے میں ایک ایسا سربراہ کرسی پرآجاتا ہے جو طاقت کے نشے میں وہ کام کرگزرتا ہے جو اس کی طاقت بھی خاک میں ملا دیتا ہے اور اس کی قوم بھی ایک صدی پہلے کے وقت میں دھکیلی جاتی ہے۔
ایک اور بات بھی تاریخی حقیقت ہے۔ ذہنی مریض کسی خاص زمانے‘ قوم ‘ مذہب‘ مسلک اورعلاقے سے نہیں ہوا کرتے۔ یہ ہر کہیں ہوتے ہیں۔ لا مذہبیت اور دہریت چونکہ خود ایک مذہب ہے اس لیے وہ بھی اسی دائرے میں شامل ہے۔ ذہنی مرض اگر نظریے اور مذہب و مسلک کے جنون سے مل جائے تو یہ دوآتشہ تباہی ہے۔ تاریخ بھی ان مثالوں سے بھری پڑی ہے اور آپ ہندوتوا کے نئے جنم میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ کیاآپ کو علم ہے کہ فرانس کے چارلس ششم کو پاگل چارلس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسے یقین تھا کہ اس کا جسم شیشے کا بنا ہوا ہے اور وہ اپنے ہی نائٹس پر اچانک حملے کرکے مار دیتا تھا۔ دہلی کے بادشاہ محمد بن تغلق کی بربریت تو ایک طرف ‘اس کے ظالمانہ احکام سوچتا ہوں تو یقین ہوجاتا ہے کہ وہ اس دور کا بڑا ذہنی مریض تھا ورنہ کون اپنی رعایا کو دہلی چھوڑ کر اس نئے دارالحکومت تغلق آباد پیدل جانے کا حکم دیتا ہے جو ابھی بنا بھی نہیں تھا۔ تغلق آباد کے سیاہ کھنڈرآج تک اس کے ذہنی خلل کی یادگار بنے کھڑے ہیں۔
ڈاکٹر ناصر غائمی کی کتابA First-Rate Madnessپڑھ لیجیے۔ ابراہم لنکن سے تھیوڈور روز ویلٹ اور لنڈن جانسن تک کیسے حیرت انگیز نام نظرآتے ہیں۔ کتاب میں چرچل اور گاندھی تک کے نام ہیں۔ اس کتاب پر بات کسی اور وقت لیکن مصنف بتاتا ہے کہ بعض اوقات مشکل اوقات میں ان کے ذہنی مرض ان کی صلاحیتوں کو بڑھا بھی دیا کرتے تھے۔
قدیم زمانے چھوڑ دیں ‘دنیا کی قریبی تاریخ پر نظر ڈالیں۔ یورپ کے بیشتر ممالک نوآبادیوں کو پھیلانے ‘ قوموں کو غلام بنانے کا جنون رکھتے تھے۔ انگریز اُن میں سر فہرست تھے۔ اس زمانے میں برطانیہ کا سورج ڈوبتا نہیں تھا لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ اس طاقت کیلئے انگریزوں کے ہاتھ کہنیوں تک مظلوموں کے خون میں ڈوبے ہوئے تھے۔یہ یورپینز کے جنون کا دور تھا۔جرمنی کا ایڈولف ہٹلر 1933ء میں برسر اقتدارآیا۔اس کے دماغ میں نسل ‘ طاقت کا زعم اور تکبر ‘ سنک اور خبط مل کر ہلچل مچاتے تھے۔اسی زمانے میں جوزف سٹالن کے بارے میں تو صاف کہا جاتا ہے کہ اس کے نفسیاتی مسائل تھے۔ یہی حال مسولینی کا بتایا جاتا ہے۔ جاپان کے وزیر اعظم ہائدیکی ٹوجو‘جنرل شیرو اشی ‘ اور شہنشاہ ہیرو ہیٹو ہی کی بات نہیں ‘ پوری جاپانی قوم جنگی جنون میں مبتلا تھی۔ایک ہی وقت میں اتنے جنونی اور ذہنی مریض سربراہوں کے یکجا ہوجانے کا نتیجہ دوسری جنگ عظیم کی صورت میں نکلا جس میں کروڑوں جانیں گئیں‘ملک بلکہ بر اعظم تباہ ہوگئے اور قومیں عشروں تک اس کے صدموں سے سنبھل نہیں سکیں۔ ایک ہی جنگ نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو زمین بوس کردیا تھا۔
1945ء سے بعد کی مختصر سی عمر میں دنیا نے کیسے کیسے نفسیاتی اور دماغی مریض سربراہ دیکھے۔کسی علاقے اور مذہب کی تخصیص کے بغیر۔ مصر کے بادشاہ فاروق کے عیاش کردار اور ناقابلِ توقع حرکات سے کتابیں بھری پڑی ہیں۔ کیاآپ جانتے ہیں کہ اس شاہ فاروق نے وِنسٹن چرچل کی جیبی گھڑی چرا لی تھی ؟کیاآپ جانتے ہیں کہ ترکمانستان کے سپر مرات نیازوف نے اپنے اور اپنے گھرانے کے ناموں پر سال کے بارہ مہینوں اور ہفتے کے دنوں کے نام رکھ لیے تھے‘ صحرا میں برف کا ایک محل بنانے کا حکم دیا تھا۔ اپنی خود نوشت سوانح 'روح نامہ‘ کو سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کا لازمی نصاب قرار دینے والے اس شخص کو بیسویں صدی کے بدترین ظالم حکمرانوں میں گنا جاتا ہے۔ یہ بھی ذرا پڑھیے کہ کمبوڈیا کے کمیونسٹ رہنما پول پوٹ نے کیسے اپنی ہی قوم کے پندرہ لاکھ لوگوں کا لرزہ خیز قتلِ عام کیا۔وہ ملک کو زرعی ملک بنانے کیلئے عجیب و غریب نظریات رکھتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ یوگنڈا کے ڈکٹیٹر عیدی امین کے بارے میں اس زمانے میں کہیں پڑھا تھا کہ وہ خود بھی سابق چیمپئن باکسر تھا۔ اپنے دورِ حکومت میں کسی جگہ باکسنگ کا مقابلہ دیکھنے گیا۔ دیکھتے دیکھتے ذہنی رو کھسکی اور حضر ت خود رِنگ میں کود پڑے۔ دونوں باکسرز کو مار مار کر ناک آؤٹ کردیا۔چھ فٹ چار انچ اور دو سو پاؤنڈ وزنی ڈکٹیٹر یوگنڈا کا قصائی کہلاتا تھا۔ باکسر تو مکے سے پہلے دہشت سے ہی ناک آؤٹ ہوچکے ہوں گے۔اس شخص نے کیا کیا ظلم نہیں کیے اور کونسا خطاب ہے جو خود اپنے آپ کو عطا نہیں کیا۔ بشار الاسد تو طویل دورِ بربریت کے بعد ایک دو سال پہلے فرار ہوا ہے۔ کیاآپ کو علم ہے کہ اس نے شامیوں پر کیسے کیسے ظلم ڈھائے اور کیسا کیسا قتلِ عام کیا۔ لیکن جنون کی صرف یہی قسم نہیں ہے کہ سربراہ قتلِ عام کرائے۔ دماغی رو کچھ بھی کروا سکتی ہے۔ معمر قذافی دوسرے ملکوں کے دورے پر جاتا تھا تو اپنا خیمہ ساتھ لے جایا کرتا تھا اور کھلے آسمان تلے اسی میں ٹھہرتا۔ یہ سنکی ہونے کی علامت نہیں ؟ میں ان بادشاہوں کو بھی اسی زمرے میں گنتا ہوں جو دوسرے ممالک کے دوروں پر جاتے ہیں تو طیارے کیلئے سونے کی بنی سیڑھی ان سے پہلے پہنچ جاتی ہے تاکہ شہنشاہ سلامت اس پر قدم دھر کر نیچے آسکیں۔ تکبر ‘ سنک ‘ خبط تو شاید پڑھے لکھوں کے لفظ ہیں۔ عام آدمی تو پاگل کا لفظ آسانی سے استعمال کرتا ہے۔
دیکھ لیجیے میں نے اب تک یہ نہیں کہا کہ اس دور کا سب سے بڑا متکبر‘ خبطی اور سنکی سربراہ کون ہے۔ اور دنیا میں کون سے مزید سنکی اور خبطی لیڈر موجود ہیں۔ کیا بتانا ضروری ہے؟بھئی جہاں آپ کا ذہن جاتا ہے ‘ میرا ذہن بھی انہی کا نام لیتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں