جنرل اسمبلی:تخفیف اسلحہ اور امن کے فروغ کیلئے پاکستان کی 4 قراردادیں منظور

جنرل  اسمبلی:تخفیف  اسلحہ  اور  امن  کے  فروغ  کیلئے  پاکستان  کی  4  قراردادیں  منظور

نیو یارک (اے پی پی)اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے تخفیف اسلحہ اورعلاقائی و بین الاقوامی سطح پرامن و سلامتی کو فروغ دینے کیلئے پاکستان کی طر ف سے پیش کی گئی 4قرار دادوں کی منظوری دے دی۔۔۔

یہ قراردادیں مذکورہ بالا مقاصد کے حصول کیلئے پاکستان کے واضح عزم کی عکاسی کرتی ہیں، ان قرار دادوں کے مسودوں کی193 رکنی جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی (برائے تخفیف اسلحہ و بین الاقوامی سلامتی ) کی طرف سے  بھاری اکثریت کے ساتھ منظوری دی گئی۔ان میں سے تین قراردادیں علاقائی تخفیف اسلحہ، علاقائی اور ذیلی علاقائی سطحوں پر روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول کے ساتھ ساتھ علاقائی اور ذیلی علاقائی تناظر میں اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق ہیں۔چوتھی قرارداد میں جوہری ہتھیار نہ رکھنے والی ریاستوں کیلئے بین الاقوامی سلامتی کی یقین دہانی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔علاقائی اور ذیلی علاقائی تناظر میں "علاقائی تخفیف اسلحہ اور اعتماد سازی کے اقدامات" کے عنوان سے قراردادوں کی جنرل اسمبلی نے بغیر ووٹنگ متفقہ منظوری دی جبکہ "علاقائی اور ذیلی علاقائی سطحوں پر روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول" سے متعلق قرارداد کی حمایت میں 186 رکن ممالک نے ووٹ دئیے جبکہ صرف ایک ملک بھارت نے قرار داد کی حمایت سے انکار کیا۔

جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا استعمال کے خطرے کے خلاف جوہری ہتھیار نہ رکھنے والی ریاستوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے موثر بین الاقوامی انتظامات کا نتیجہ کے عنوان سے قرارداد کو بھی بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا۔ اس قرار داد کے حق میں 123 رکن ممالک نے ووٹ دئیے جبکہ62 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا،جنرل اسمبلی نے اپنی شرائط کے مطابق جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا استعمال کے خطرے کے خلاف غیر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا استعمال کی دھمکی کے خلاف تحفظ کی یقین دہانی کے لئے موثر انتظامات پر جلد معاہدے تک پہنچنے کی فوری ضرورت کی توثیق کی۔جنرل اسمبلی نے تمام ریاستوں خاص طور پر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ ایک مشترکہ نقطہ نظر بالخصوص ایک مشترکہ فارمولے پر جلد از جلد اور فعال طور پر کام کریں جسے قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدے میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ جنرل اسمبلی نے سفارش کی کہ تخفیف اسلحہ سے متعلق کانفرنس جلد سمجھوتے تک پہنچنے اور اس سلسلے میں موثر بین الاقوامی معاہدوں کو انجام دینے کے لیے فعال اور تفصیلی مذاکرات جاری رکھے جائیں۔اس موقع پر مختلف مما لک کے سفارت کاروں نے کہا کہ چاروں قراردادیں بین الاقوامی امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے ہتھیاروں کے کنٹرول، تخفیف اسلحہ اور اعتماد سازی کے لیے علاقائی اور عالمی نقطہ نظر کی اہمیت اور تکمیل کو تسلیم کرتی ہیں۔ قراردادوں میں علاقائی تناظر میں ضرورت سے زیادہ روایتی فوجی خطرے کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی گئی ہے خاص طور جنوبی ایشیا میں ایسے خطرات سے نمٹنے کے لئے اقدامات تجویز اور علاقائی و ذیلی علاقائی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے ۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں