ایران امریکا مذاکرات ، جامع معاہدے کیلئے بنیادی اصولوں پر اتفاق
جنیوا میں مذاکرات تعمیری ، دونوں جانب سے ڈرافٹ تیار کیے جائینگے ،پھر تیسری ملاقات کی تاریخ مقرر ہوگی :ایران امریکا ایران کو تباہ نہیں کر سکتا،خلیج میں امریکی جہازوں کو ڈبو سکتے ،یورینیم افزودگی کا حق ناقابل مذاکرات :خامنہ ای
جنیوا،تہران(اے ایف پی) ایران اور امریکا کے درمیان جنیوا میں جوہری مذاکرات کے دوران ممکنہ جامع معاہدے کے لیے بنیادی اصولوں پر اتفاق کیا گیاہے ۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق مذاکرات زیادہ تعمیری رہے ، اور اب دونوں جانب سے ڈرافٹ تیار کیے جائیں گے جن کے بعد تیسری ملاقات کی تاریخ مقرر ہوگی۔ عمانی وزیر خارجہ بدر البوسائیدی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جنیوا میں ہونے والے تازہ مذاکرات میں مشترکہ اہداف اور تکنیکی امور کی نشاندہی میں پیش رفت ہوئی ہے ۔ واضح رہے مذاکرات میں ثالث کے طور پر عمان کی وزارت خارجہ نے سہولت فراہم کی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے ۔دوسری جانب ایران اور امریکاکے درمیان جنیوا میں مذاکرات کے بعد تیل کی قیمتوں اور عالمی شیئر مارکیٹس میں کمی دیکھی گئی۔
مغربی مارکیٹس میں ٹیک ہیوی نیسڈیک ایک فیصد گر گیا جبکہ ڈاؤ میں صفر اعشاریہ تین فیصد کمی ہوئی۔ یورپی شیئر مارکیٹس مستحکم رہیں۔ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایران کو تباہ کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔ خامنہ ای نے ایران کے جوہری پروگرام پر کسی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یورینیم افزودگی کا حق ناقابلِ مذاکرات ہے ، جبکہ میزائل پروگرام پر بات چیت ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ خلیج میں تعینات امریکی جنگی جہاز وں کو ڈبونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔خامنہ ای نے کہا کہ جنگی جہاز یقینی طور پر خطرناک ہتھیار ہیں، لیکن اسے ڈبونے کی صلاحیت رکھنے والا ہتھیار کہیں زیادہ خطرناک ہے ۔