ایران سے کشیدگی ، امریکا نے بیروت سے سفارتی عملہ واپس بلا لیا
امریکا نے حملہ کیا تو خطے کی صورتحال بگڑ سکتی، جوابی کارروائی کرینگے :ایران
تہران /واشنگٹن ( نیوز ایجنسیاں )امریکی حکومت نے سکیورٹی جائزے کے بعد اپنے سفارت خانے کے تمام غیر ضروری عملے کو لبنان کے دارالحکومت بیروت چھوڑنے کا حکم دے دیا ۔ محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایاکہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھی ہوئی ہے ۔سفارت خانہ بنیادی عملے کے ساتھ کام کرتا رہے گا، یہ عارضی قدم ہمارے عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اٹھایا گیا ہے ۔خبر رساں ادارے کے مطابق تقریباً 50 افراد کو سفارت خانے سے واپس جانے کا حکم دیا گیا ہے جن میں سے 32 اہلکار اور ان کے اہلِ خانہ گزشتہ روز بیروت ایئرپورٹ سے روانہ ہو گئے ۔ بھارت نے بھی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے ۔ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ اگر ان کے ملک پر حملہ کیا گیا تو صورتحال وسیع پیمانے پر بگڑ سکتی ہے ۔کسی بھی جارحیت کے نتائج صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے ۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں تہران شدید جوابی کارروائی کرے گا۔ کسی بھی حملے کو جارحیت سمجھا جائے گا اور ہر ملک اپنے دفاع کے حق میں بھرپور ردعمل دیتا ہے ۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران ملک پیچیدہ اور مشکل دنوں سے گزر رہا ہے ۔ پارلیمنٹ میں مختصر خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ہر ممکنہ صورتحال کیلئے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر خامنہ ای حکومت نے اسرائیل پر حملہ کیا تو ہم ایسا جواب دیں گے جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے ۔