’’پینٹاگون ایران میں زمینی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہا‘‘

’’پینٹاگون ایران میں زمینی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہا‘‘

خرگ جزیرے اور آبنائے ہرمز کے ساحلی مقامات پر چھاپے شامل ہو سکتے منصوبہ بندی مکمل ،ٹرمپ نے ابھی تعیناتی کی منظوری نہیں دی:امریکی میڈیا کارروائیوں کے دوران امریکی فوج کو ڈرونز جیسے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے

واشنگٹن(اے ایف پی)امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون ایران میں ہفتوں پر محیط زمینی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جس میں خرگ جزیرے اور آبنائے ہرمز کے ساحلی مقامات پر چھاپے شامل ہو سکتے ہیں، تاہم صدر ٹرمپ نے ابھی کسی تعیناتی کی منظوری نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق منصوبہ بندی مکمل طور پر تیار ہے اور یہ مکمل حملے تک محدود نہیں، بلکہ یہ کارروائی خاص آپریشنز اور انفنٹری دستوں کے چھاپوں پر مشتمل ہوگی۔رپورٹ کے مطابق یہ کارروائیاں ایرانی ساحلی علاقوں اور اہم عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے کی جا سکتی ہیں۔

خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب موجود تنصیبات جہاں سے تجارتی اور فوجی جہازوں کو خطرات لاحق ہیں۔اخبار نے لکھا کہ ان کارروائیوں کے دوران امریکی فوج کو ایرانی ڈرونز، میزائل حملوں، زمینی فائرنگ اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد جیسے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے ۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی افواج ایرانی سرزمین پر داخل ہوئیں تو انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ہم اپنے مقاصد بغیر زمینی فوج کے حاصل کر سکتے ہیں لیکن منصوبہ بندی پہلے سے جاری ہے اوریہ آخری لمحے کا فیصلہ نہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں