لٹویا کی وزیراعظم نے استعفیٰ دیدیا

لٹویا کی وزیراعظم نے استعفیٰ دیدیا

ریگا (اے ایف پی) لٹویا کی وزیرِاعظم ایویکا سیلینا نے جمعرات کو استعفیٰ دے دیا، کیونکہ حکومتی اتحاد میں شامل ایک اہم جماعت نے ان سے حمایت واپس لے لی۔

یہ بحران یوکرین کے ڈرونز کے معاملے پر پیدا ہوا جو غلطی سے بالٹک ملک لٹویا میں داخل ہو گئے تھے ۔رپورٹ کے مطابق یہ ڈرونز روس کے اندر حملے کے مشن پر تھے ، لیکن یوکرین نے کہا کہ روسی فوج کی الیکٹرانک مداخلت کے باعث یہ 7 مئی کو لٹویا کے علاقے میں گر کر تباہ ہو گئے ۔ ان میں سے ایک ڈرون نے مشرقی لٹویا میں ایک غیر استعمال شدہ تیل کے ذخیرہ گاہ میں آگ لگا دی۔وزیرِاعظم سیلینا نے اتوار کے روز اس واقعے کے بعد اپنے دفاعی وزیر آندرس سپرُڈس کو برطرف کر دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ ملک کے اینٹی ڈرون نظام بروقت فعال نہیں ہو سکا۔تاہم دفاعی وزیر کی برطرفی کے بعد ان کے اتحادی، بائیں بازو کی پروگریسو پارٹی کے نو ارکان نے حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی، اور الزام لگایا کہ وزیرِاعظم نے انہیں قربانی کا بکرا بنایا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں