ایران کیساتھ ماضی کے برعکس معاہدہ کررہے :صدرٹرمپ

ایران کیساتھ ماضی کے برعکس معاہدہ کررہے :صدرٹرمپ

معاہدہ جلد بازی میں نہیں کیاجائیگا ،اتفاق تک پابندیاں برقرار:امریکی صدر

واشنگٹن(دنیا نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمارے ملک کی جانب سے کئے گئے بدترین معاہدوں میں سے ایک ایران نیوکلیئر معاہدہ تھا،اب ایران کیساتھ  ماضی کے برعکس معاہدہ کررہے ہیں ، معاہدے میں جلد بازی نہیں کی جائیگی اور پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک مکمل اتفاق نہیں ہو جاتا۔وائٹ ہاؤس سے جاری اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اوباما اور انکی انتظامیہ کے ناتجربہ کار افراد نے معاہدہ کیا اور نافذ کیا، یہ ایران کیلئے ایٹمی ہتھیار بنانے کا براہ راست راستہ تھا۔ ہم ایران کے ساتھ جو معاہدہ طے کررہے ہیں وہ بالکل اسکے برعکس ہے ، اپنے نمائندوں کو آگاہ کردیا ہے کہ وہ کسی معاہدے میں جلدی نہ کریں،جب تک معاہدہ طے نہیں پاجاتا، ناکہ بندی پوری شدت اور مؤثر انداز میں برقرار رہے گی۔ کہ مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، دونوں فریقوں کو وقت لینا چاہئے اور اسے درست طریقے سے انجام دینا چاہئے ، کسی قسم کی غلطی کی گنجائش نہیں۔

انہوں نے کہا ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات زیادہ پیشہ ورانہ اور نتیجہ خیز بنتے جارہے ہیں، انہیں سمجھنا ہوگا کہ وہ ایٹمی ہتھیار یا بم نہ تیار کرسکتے ہیں، نہ ہی حاصل کرسکتے ہیں۔دوسری طرف امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آ گئی ہیں تاہم باضابطہ معاہدے کی حتمی تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی۔ امریکی اور ایرانی ذرائع کے مطابق بات چیت جاری ہے اور بعض نکات پر اتفاق جبکہ کچھ معاملات پر اختلاف برقرار ہے ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت 60 روزہ ہوگی ،توسیع کی گنجائش بھی رکھی جا سکتی ہے ، اس دوران ایران اور امریکا میں اعتماد سازی کے اقدامات پر پیشرفت متوقع ہے ۔مجوزہ معاہدے کے تحت 60 دن کی عبوری مدت میں آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کیلئے مکمل طور پر کھلا رکھنے اور کسی اضافی ٹول یا رکاوٹ سے پاک بنانے کی تجویز دی گئی ہے ۔ ایران مبینہ طور پر اس راستے میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹانے پر آمادہ ہوگا تاکہ بحری تجارت بحال ہو سکے ۔اسکے بدلے امریکا کی جانب سے ایران پر اقتصادی اور بندرگاہی پابندیوں میں نرمی کی تجویز ہے ، جس سے ایران کو عالمی منڈی میں تیل کی آزادانہ فروخت کی اجازت مل سکتی ہے ۔رپورٹ کے مطابق امریکا ایران سے یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ اسی کے ساتھ یورینیم افزودگی کی حد بندی اور حساس جوہری مواد سے متعلق مذاکرات بھی جاری رہیں گے ۔

ایران نے ثالث ممالک کے ذریعے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ افزودگی کو محدود کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے ، تاہم جوہری مواد کی مکمل حوالگی یا مستقل ضمانت پر ابھی اتفاق نہیں ہوا۔امریکی حکام کے مطابق خطے میں موجود امریکی افواج 60 روزہ مدت کے دوران اپنی پوزیشن برقرار رکھیں گی، کسی بھی بڑے انخلا کا انحصار حتمی معاہدے پر ہوگا۔مجوزہ فریم ورک میں لبنان کی حزب اللہ اور اسرائیل میں کشیدگی کے خاتمے کا نکتہ بھی شامل بتایا جا رہا ہے ۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران دنیا کو یقین دلانے کیلئے تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا، تاہم قومی خودمختاری اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ایرانی حکام کے مطابق فیصلے رہبرِ اعلیٰ کی منظوری سے مشروط ہوتے ہیں اور سفارتی عمل میں تمام ادارے متفقہ پالیسی کے تحت آگے بڑھتے ہیں۔قومی سلامتی کونسل کے دائرہ کار سے باہر اور رہبرِ اعلیٰ کی منظوری اور رضا مندی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران میں ایک ابتدائی فریم ورک پر پیشرفت ہوئی ہے ، لیکن حتمی معاہدہ ابھی زیرِ بحث ہے ۔ آئندہ دنوں میں مذاکرات کے نتائج خطے کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر اہم اثر ڈال سکتے ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں