مڈٹرم الیکشن قریب ،ٹرمپ کو اپنی جماعت میں مزاحمت کا سامنا

مڈٹرم الیکشن قریب ،ٹرمپ کو اپنی  جماعت میں مزاحمت کا سامنا

واشنگٹن(رائٹرز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا ہے کیونکہ کانگریس میں ریپبلکن ارکان اب ان کے مؤقف سے اختلاف کرنے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ آمادہ دکھائی دے رہے ہیں۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن ارکان کے مختلف گروپوں نے ایران سے متعلق ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کی، وائٹ ہاؤس کے بال روم منصوبے کیلئے ایک ارب ڈالر کی فنڈنگ مسترد کی، 1.8 ارب ڈالر کے اینٹی ویپنائزیشن فنڈ پر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا اور گھریلو نگرانی سے متعلق ان کی قانون سازی کو بھی روک دیا۔ایوانِ نمائندگان نے یوکرین کی مدد اور روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا بل منظور کرکے بھی ٹرمپ کی مخالفت کی، اگرچہ امکان ہے کہ صدر اس بل کو ویٹو کر دیں گے ۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ صورتحال ابھی بغاوت کی شکل اختیار نہیں کر رہی تاہم ریپبلکن پارٹی کے اندر ایک ایسا گروپ ابھر رہا ہے جو بعض اہم معاملات پر ٹرمپ سے اختلاف کرنے کیلئے تیار ہے ، اور یہ رجحان انتخابات تک ان کے بڑے منصوبوں کیلئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے ۔ریپبلکن سینیٹر تھام ٹِلس نے کہا کہ انتخابات قریب آنے کے ساتھ ارکانِ کانگریس اپنے حلقوں کی خواہشات کے مطابق ووٹ دیں گے ، نہ کہ صرف پارٹی قیادت کی ہدایات پر۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسی کوئی واضح علامت نہیں ملی کہ ریپبلکن پارٹی مجموعی طور پر ٹرمپ کے خلاف کھڑی ہو رہی ہے ۔ وائٹ ہاؤس نے ریپبلکن اختلافات کو ’’انتخابی سال کی سیاست‘‘قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر اور کانگریس کے ریپبلکن ارکان کے درمیان تعاون برقرار ہے اور ٹرمپ کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جاتا رہے گا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں