ٹرمپ جمی کارٹر بنتے جا رہے ہیں

 ٹرمپ جمی کارٹر بنتے جا رہے ہیں

لندن ( مانیٹرنگ نیوز )ظاہری شخصیت اور سیاسی نظریات کے لحاظ سے ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق امریکی صدر جمی کارٹر میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔۔۔

کارٹر ایک کفایت شعار اور عاجز "عوامی خادم" تھے ، جبکہ ٹرمپ کی شخصیت اس کے بالکل برعکس ہے ۔ لیکن، ان دونوں میں ایک چیز مشترک ہوتی جا رہی ہے : ایران۔ جس طرح جمی کارٹر کی صدارت 1979 کے ایرانی یرغمالی بحران کی قیدی بن کر رہ گئی تھی اور وہ اس سے کبھی نکل نہ سکے ، بالکل اسی طرح ایران کے حکمران اب ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کا رخ بھی متعین کر رہے ہیں۔ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ کے اس بحران میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے ایک مضمون کے مطابق جمی کارٹر اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں میں ایک اور قدرِ مشترک یہ ہے کہ دونوں ہی جنگوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں (Body Bags) سے شدید خوفزدہ رہتے ہیں۔ کارٹر 1980 میں ایرانی یرغمالیوں کو چھڑانے کے ناکام آپریشن میں 8 امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر شدید صدمے کا شکار ہوئے تھے ۔ دوسری طرف، ٹرمپ اب تک خلیج میں جاری کشیدگی میں 13 امریکی فوجی گنوا چکے ہیں، اور وہ مزید امریکی ہلاکتوں کے بعد پیدا ہونے والے عوامی ردِعمل سے شدید ڈرے ہوئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر قبضہ کرنے کے لیے امریکی خصوصی فورسز بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو انہوں نے اعتراف کیا کہ شروع میں انہوں نے ایسا سوچا تھا، لیکن انہوں نے اس فوجی کارروائی کا ارادہ ترک کر دیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ مہم ہفتوں تک جنگی زون میں پھنسی رہے اور کوئی نیا بحران پیدا ہو۔ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا تھا: "میں جمی کارٹر نہیں بننا چاہتا تھا۔" لیکن مضمون نگار کے مطابق، ٹرمپ اب بالکل وہی بنتے جا رہے ہیں۔جب دنیا میں یہ تاثر عام ہو جائے کہ امریکی صدر اب خود فیصلے کرنے کے بجائے دوسروں کے فیصلوں کا یرغمالی بن چکا ہے ، تو اس کی طاقت کا بھرم ٹوٹ جاتا ہے ۔ جمی کارٹر کی بے بسی دیکھ کر ہی سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کرنے کی ہمت کی تھی۔ آج ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ کی اس بھول بھلیوں میں خود ایک "یرغمالی" نظر آتے ہیں۔اگرچہ ٹرمپ نے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ: "تمام فیصلے میں کرتا ہوں، نیتن یاہو نہیں"۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ٹرمپ نے اتوار کے روز اسرائیل کو ایران پر جوابی حملہ نہ کرنے کی تاکید کی تھی، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس انتباہ کو نظر انداز کرتے ہوئے چند گھنٹوں بعد ہی ایران پر بمباری کا حکم دے دیا۔عام تاثر یہی ہے کہ ٹرمپ نیتن یاہو کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ یہ تاثر ٹرمپ کے لیے اس جنگ کو ختم کرانے کی کوششوں میں مہلک ثابت ہو سکتا ہے ، کیونکہ ایران کسی ایسے امریکی صدر کے سامنے کبھی بڑے سمجھوتے نہیں کرے گا جو خود اسرائیل پر اثر و رسوخ نہ رکھتا ہو۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں