ایران امریکا جنگ کے اثرات ،عالمی ترقی کی شرح میں کمی

ایران امریکا جنگ کے اثرات ،عالمی ترقی کی شرح میں کمی

عالمی بینک کی آئندہ مالی سال میں عالمی شرح نمو 2.5فیصد رہنے کی پیش گوئی متاثر ترقی پذیر ممالک کیلئے 60 ارب ڈالر فراہم کررہے ہیں ـ:صدر اجے بنگا

واشنگٹن (اے ایف پی)عالمی بینک نے مشرقِ وسطٰی میں جاری جنگ کے بڑھتے ہوئے معاشی اثرات کے باعث 2026 کیلئے عالمی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی کم کرتے ہوئے اسے کوویڈ 19 وبا کے بعد کی کم ترین سطح قرار دیا ہے ۔عالمی بینک کی رپورٹ گلوبل اکنامک پراسپکٹس کے مطابق 2026 میں عالمی شرح نمو 2.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جو گزشتہ سال 2.9 فیصد تھی، جبکہ عالمی افراطِ زر کی اوسط شرح 4 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے ، جس سے مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے اعلان کیا کہ بحران سے زیادہ متاثر ہونے والے ترقی پذیر ممالک کیلئے فوری طور پر 60 ارب ڈالر فراہم کئے جا رہے ہیں جبکہ آئندہ 15 ماہ کے دوران یہ رقم 100 ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہے ۔رپورٹ کے مطابق دنیا کی تقریباً دو تہائی معیشتوں کی شرح نمو کے تخمینے جنوری کے مقابلے میں کم کر دئیے گئے ہیں۔

عالمی بینک کے چیف اکنامسٹ انڈرمِت گل نے کہا کہ اس وقت ایشیا عالمی معیشت کا سب سے زیادہ متاثرہ خطہ ہے ۔ مغربی ایشیا جنگ کی لپیٹ میں ہے ، جنوبی ایشیا تیل، گیس، معدنیات اور کھاد کی بڑھتی قیمتوں سے متاثر ہو رہا ہے جبکہ جنوب مشرقی اور شمال مشرقی ایشیا بھی اس کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔رپورٹ میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ترکیہ اور بنگلہ دیش کو ان ممالک میں شامل کیا گیا ہے جہاں شرح نمو کے تخمینوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے ۔عالمی بینک نے خبردار کیا کہ اگر توانائی کی سپلائی میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی بڑھی تو عالمی شرح نمو 1.3 فیصد تک گر سکتی ہے ، جبکہ مہنگائی 4.4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے ۔رپورٹ میں 2020 کی دہائی کو ترقی پذیر ممالک کیلئے ’’گمشدہ دہائی‘‘قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وبا، موسمیاتی تبدیلی، یوکرین جنگ، تجارتی تنازعات اور اب ایران جنگ نے ان ممالک کی معاشی مزاحمت کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔عالمی بینک نے مزید خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا کی تقریباً ایک تہائی کھاد کی سپلائی متاثر ہوئی ہے ، جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور غذائی عدم تحفظ کے خطرات بڑھ گئے ہیں، خصوصاً افریقی ممالک، شام، لبنان اور یمن جیسے بحران زدہ ممالک زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں