ایک ٹریلین ڈالر :زمین سے چاند تک سکوں کے 2مینار

 ایک ٹریلین ڈالر :زمین سے چاند تک سکوں کے 2مینار

نیویارک(نیوز مانیٹرنگ )کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک ٹریلین ڈالر کتنی بڑی رقم ہوتی ہے ؟ اگر آپ کا جواب 'ہاں' ہے ، تو وال اسٹریٹ جرنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق آپ بالکل غلط ہیں!ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ انسانی دماغ اتنے بڑے عدد کا تصور کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔

معیشت اور اعداد و شمار کی اس گتھی کو سلجھانے کیلئے مضمون میں سکوں کی ایک ایسی مثال دی گئی ہے جس نے دنیا کو حیران کر دیا ہے ۔مضمون کے مطابق اگر آپ ایک ٹریلین ڈالرز کو ایک ایک پینی (ایک سینٹ کے سکے ) کی شکل میں ایک دوسرے کے اوپر رکھنا شروع کریں، تو سکوں کا یہ مینار اتنا اونچا ہو جائے گا کہ یہ زمین سے شروع ہو کر چاند تک جائے گا،پھر چاند سے واپس زمین پر آئے گا اور چاند پر آنے جانے کا یہ طویل چکر دو بار مکمل ہو گا ۔رپورٹ کے مطابق روزمرہ کی زندگی میں ہم ہزاروں یا لاکھوں کا حساب تو آسانی سے کر لیتے ہیں، لیکن جب بات 'ٹریلین'(یعنی ایک کے ساتھ 12 صفر) پر پہنچتی ہے ، تو ہمارا دماغ اسے محض ایک بہت بڑا نمبر سمجھتا ہے اور اس کی حقیقی وسعت کو نہیں پکڑ پاتا۔سائنسدانوں اور ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ انسانی ارتقا کے دوران ہمیں کبھی اتنے بڑے اعداد کی ضرورت نہیں پڑی، یہی وجہ ہے کہ جب ہم کسی امیر ترین شخصیت کی دولت یا ملکی قرضوں کو ٹریلیئنز میں سنتے ہیں، تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ بس اربوں سے تھوڑا زیادہ ہوگا، جبکہ حقیقت میں یہ چاند کے چکر کاٹنے جتنا بڑا فرق ہے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں