آبنائے ہرمز ایرانی جوہری ہتھیار،تعاون جاری رکھیں گے :روس

آبنائے ہرمز ایرانی جوہری ہتھیار،تعاون جاری رکھیں گے :روس

آبی گزرگاہ کی اہمیت کسی بھی عسکری یا سفارتی تنازع میں انتہائی بڑھ جاتی ہے دونوں ممالک مشترکہ مفادات کے تحفظ کیلئے ملکر کام کرینگے :دمتری میدویدیف

ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک )روس نے ایران کے ساتھ دفاعی و فوجی شراکت داری جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو ایران کا اہم ہتھیار قرار دیدیا۔ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تہران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین  میں شرکت کیلئے روسی وفد کی قیادت کرنیوالے روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین اور سابق صدر دمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد بھی ایران کے ساتھ اپنی سٹریٹجک شراکت داری جاری رکھیں گے ۔انہوں نے آبنائے ہرمز کو ایران کا سب سے بڑا جنگی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل میں یہی ایران کا جوہری ہتھیار ہے ۔ دنیا کی تیل اور گیس کی بڑی مقدار آبنائے ہرمز کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے اسی لئے اس آبی گزرگاہ کی اہمیت کسی بھی عسکری یا سفارتی تنازع میں انتہائی بڑھ جاتی ہے ۔روسی رہنما نے کہا کہ ماسکو اور تہران کے درمیان دفاع، معیشت، توانائی اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ دونوں ممالک بین الاقوامی مسائل پر قریبی رابطہ برقرار رکھیں گے اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کیلئے مل کر کام کریں گے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں