ترکیہ پر پابندی ختم کرنے کا اعلان ،ایف 35طیاروں کی فروخت پر غور کریں گے:ٹرمپ

ترکیہ پر پابندی ختم کرنے کا اعلان ،ایف 35طیاروں کی فروخت پر غور کریں گے:ٹرمپ

نیٹو سربراہی اجلاس ترکیہ میں نہ ہو رہا ہوتا تو شاید شرکت نہ کرتا:امریکی صدر، اردوان سے ملاقات اجلاس کے دوران نیٹو مخالف مظاہرے ، دفاعی صنعت سے متعلق ایک فورم ،معاہدوں کی تفصیل پیش

انقرہ،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوجی اتحاد نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے ،جہاں انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی اور ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے ترک صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا امریکا ترکیہ پر 2020 کے آخر میں عائد کی گئی سی اے اے ٹی ایس اے پابندیاں ختم کر دے گا۔واضح رہے کہ سی اے اے ٹی ایس اے یعنی امریکا کے مخالفین سے نمٹنے کیلئے پابندیوں کے قانون کے تحت یہ پابندیاں اس وقت لگائی گئی تھیں جب ترکیہ نے روس سے فضائی دفاعی نظام خریدا تھا۔ ٹرمپ نے کہا امریکا ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے فروخت پر غور کرے گا کیوں کہ ترکیہ امریکا کا قریبی اتحادی ہے ۔ امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ اگر نیٹو سربراہی اجلاس ترکیہ میں منعقد نہ ہو رہا ہوتا تو شاید وہ اس میں شرکت نہ کرتے ۔ترک صدر اردوان نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے ایف 35 جنگی طیاروں کے معاملے پر مثبت فیصلہ سامنے آئے گا۔ترک صدر نے کہا کہ ترکیہ ایران اور امریکا کے تعلقات کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے کام کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ ایف 35 طیاروں کے معاملے پر امریکا کی سابقہ یقین دہانیوں کو مثبت انداز میں دیکھتا ہے اور صدر ٹرمپ ہمیشہ اپنے وعدوں پر قائم رہے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب اردوان، جو اس سال نیٹو اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں، نے ٹرمپ کا استقبال کیا۔اجلاس میں روس یوکرین جنگ اور یورپی اتحادیوں کے دفاعی اخراجات میں اضافے سمیت مختلف امور زیر بحث آنے کی توقع ہے ۔نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے دفاعی صنعت سے متعلق ایک فورم میں کہا کہ یہ سرمایہ کاری درست جگہ خرچ ہونے والا پیسہ ہے ۔ اس موقع پر کئی دفاعی معاہدوں اور عسکری منصوبوں کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔اعلان کردہ منصوبوں میں نیٹو کے زیر استعمال تقریباً 50 سال پرانے ایواکس نگرانی طیاروں کو تبدیل کرنے کا پروگرام بھی شامل ہے ۔سویڈن کی کمپنی ساب 10 تک نئے گلوبل آئی نگرانی طیارے فراہم کرے گی۔ادھر نیدرلینڈز نے بھی دفاعی تعاون بڑھانے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے ۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اجلاس سے قبل کہا کہ ان کے ملک نے 2022 کے بعد دفاعی اخراجات دوگنا کر دئیے ہیں۔ دوسری جانب کریملن نے کہا ہے کہ وہ نیٹو اجلاس پر گہری نظر رکھے گا۔ترکیہ میں اجلاس کے دوران نیٹو مخالف مظاہرے بھی ہوئے ، جہاں پولیس نے وسطی انقرہ میں احتجاج کرنے والے 20 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں