آبنائے ہرمز میں 2تجارتی ٹینکروں پر حملے ،کشیدگی میں اضافہ

آبنائے ہرمز میں 2تجارتی ٹینکروں پر حملے ،کشیدگی میں اضافہ

قطر، سعودیہ کے جہازوں کو نشانہ بنایا گیا،ٹرمپ کی جلد معاہدے کیلئے پھر وارننگ دھمکیاں جاری رہیں تو حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع نہیں ہونگے :عراقچی علی خامنہ ای کی قم میں بھی نماز جنازہ ادا، جلوس جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت

تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) آبنائے ہرمز میں منگل کو دو تجارتی آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی،قطر نے اپنے مائع قدرتی گیس (ایل این جی)بردار ٹینکر الریقیات پر ڈرون حملے کا الزام ایران پر عائد کرتے کہا ہے کہ رات کو حملے میں جہاز کے انجن روم میں آگ بھڑک اٹھی جس سے دھماکے کا سنگین خطرہ پیدا ہو گیا۔قطری حکام کے مطابق جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے ۔اسی دوران عمان کے ساحل کے قریب سعودی پرچم بردار خام تیل کے ٹینکر، جسکے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ سپر ٹینکر ویدیان ہے ، کو بھی نقصان پہنچا۔ ترجمان قطری وزارت خارجہ ماجد الانصاری نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات بند کرے جو خطے کے امن اور سمندری تجارت کیلئے خطرہ بن رہے ہیں ۔دوسری جانب ایران کی جانب سے فوری کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا، نہ ہی کسی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ تاہم ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ قطر کے آئل ٹینکر نے امریکی بحریہ کی مدد سے آبنائے ہرمز میں عمانی راستے سے گزرنے کی کوشش کی، بار بار کی تنبیہ کو نظر انداز کرنے کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی عہدیدار نے کہا کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے دو تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن علائو الدین بروجردی نے کہاہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی بھی قدم اٹھایا گیا تو اس کا نتیجہ ناکامی ہے ۔دوسری جانب گزشتہ روز شہید ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای اور انکے خاندان کے 4 افراد کی قم میں ایک بار پھر نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق نمازِ جنازہ قم شہرکے مضافات میں مسجد جمکران میں ادا کی گئی۔رائٹرز کے مطابق منگل کو خامنہ ای اور انکے اہلِ خانہ کے تابوت قم کی گلیوں اور شاہراہوں سے گزارے گئے ، جہاں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ایران کو جوہری مواد معاملے پر جلد معاہدہ کرنے کی وارننگ دی اور دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کو ایران کی جانب سے بعض رعایتیں مل چکی ہیں۔ انہوں نے کہا امریکا ایران سے افزودہ جوہری مواد حاصل کر رہا ہے ، ایران یا تو معاہدہ کر لے ، ورنہ امریکا کسی نہ کسی طریقے سے یہ معاملہ مکمل کر لے گااور یہ کام امریکا کیلئے مشکل نہیں ہوگا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران میں حکومتی تبدیلی نہیں چاہتے ۔ اگرچہ سابق حکومت ختم ہو چکی ہے تاہم موجودہ حکومت پہلے سے بہتر ہے ۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کی دھمکیاں جاری رہیں تو حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع نہیں ہونگے ، اپنے دستخط کی پاسداری کریں،امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت بالکل واضح ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں