حماس کو 30روز میں غیر مسلح کرنے پر پیشرفت متوقع:کشنر

حماس کو 30روز میں غیر مسلح کرنے پر پیشرفت متوقع:کشنر

غزہ امن منصوبہ بحال کرنیکی کوششیں جاری،ٹرمپ ایلچی کی نیتن یاہو سے ملاقات فوجی انخلاحماس کے غیرمسلح ہونے سے مشروط:اسرائیل،امریکی جنرل نگرانی کریگا

تل ابیب(اے ایف پی)امریکی صدر ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر نے غزہ امن منصوبے اور حماس کو غیرمسلح کرنے پر آئندہ 30روز میں پیشرفت کی امید ظاہر کردی۔ کشنر نے  تل ابیب میں امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ کے اندر حماس کے کچھ ہتھیار ہٹانے اور سرنگوں کو بند کرنے کے عمل میں پیشرفت ہوسکتی ہے ۔ امن منصوبے پر عمل درآمد کیلئے کوششیں جاری ہیں ، مثبت پیش رفت متوقع ہے ۔علاوہ ازیں جیرڈ کشنر نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کی ہے جس کا مقصد غزہ امن منصوبے کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کرنا ہے ۔نیتن یاہو نے جیرڈ کشنر سے ملاقات میں غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا حماس کے غیرمسلح ہونے سے مشروط کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ اسرائیلی عہدیدار کے مطابق پہلے مرحلے میں حماس سے ہتھیار حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا، جس کی نگرانی ایک امریکی جنرل کرے گا۔ کشنر نے ایک روز قبل مصر میں حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیہ سے بھی مذاکرات کیے تھے ۔ حماس نے امن منصوبے سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ سے نیتن یاہو حکومت پر معاہدے پر عملدرآمد کیلئے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ ادھر اسرائیل میں مذہبی اور سیکولر طبقات کے درمیان ہفتہ وار تعطیل کے معاملے پر کشیدگی بڑھ گئی۔ وسطی یروشلم کے ایک کیفے کے باہر ہر ہفتے انتہاپسند مذہبی یہودی مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ کیفے ہفتے کو کھلا رہتا ہے ۔ مظاہرین نے ’سبت‘ کے نعرے لگائے جبکہ سیکولر اسرائیلیوں نے جوابی احتجاج کرتے ہوئے سیٹیاں بجائیں اور کافی پینے کے حق میں بینرز اٹھائے ۔ یہ تنازع اسرائیل میں مذہبی و سیکولر تقسیم کی عکاسی کرتا ہے ۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...