ایران کا اماراتی ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ،خلیجی ممالک کو وارننگ، تیل مزید مہنگا
امریکی وزیرخارجہ کا امارات کے مشیر قومی سلامتی کوفون،ایرانی حملوں کے جواب میں مربوط کارروائی پر گفتگو، تہران کی امارات پر حملے کی تردید ایران کی چینی آئل ٹینکر کو بھی تنبیہ،قالیباف کا دورہ عراق، اہم ملاقاتیں،حوثیوں کی باب المندب کے اطراف مزید علاقوں پر قبضے کی منصوبہ بندی
تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے متحدہ عرب امارات کا آئل ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ خلیجی ممالک کو وارننگ دی ہے کہ امریکی فوج کو سہولت دینا ایران کیخلاف شراکت داری تصور کی جائیگی،خطے میں کشیدہ صورتحال پرعالمی سطح پر تیل کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگیا۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق اماراتی بندرگاہ جبل علی کی طرف جانے والے اماراتی آئل ٹینکر کو آبنائے ہرمز کی شمالی گزر گاہ سے قبضے میں لیا گیا اور اسکا رخ ایرانی بندرگاہ بندر عباس کی طرف موڑ دیا گیا،ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے چینی آئل ٹینکر کو بھی وارننگ جاری کی، جس پر تیل بردار بحری جہاز نے آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کا ارادہ ترک کردیا۔قبل ازیں متحدہ عرب امارات نے تہران سے تمام تجارتی و کاروباری اور مالی معاملات تاحکمِ ثانی معطل کئے تھے ۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے عرب امارات کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ ایران نے انکے ملک پر میزائل داغے ہیں۔ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف علی عبداللہی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا حوالہ دیتے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں فوجی طیاروں،
خصوصاً ایندھن بھرنے والے طیاروں کی میزبان ممالک کی معلومات کے بغیر علاقائی اڈوں پر تعیناتی کا امکان کم ہے ۔ ایران امریکی فوج کو دی جانے والی کسی بھی مدد یا سہولت کو اپنی فوجی قوتوں کے خلاف شراکت داری تصور کرے گا۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، دونوں نے علاقائی سلامتی اور ایران کے حملوں کے جواب میں مربوط کارروائی پر تبادلہ خیال کیا،مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اماراتی صدرکے مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کو نہ مالی امداد دی اور نہ کسی گروپ اور ملک کے ویزے منسوخ کیے ، جھوٹے دعوے کیے جارہے ہیں۔ علاوہ ازیں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ 40 روزہ جنگ کے بعد ہم خطے کا سکیورٹی نظام تبدیل ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ نئے نظام میں بیرونی طاقتوں اور علاقائی حدود سے باہر کے کرداروں کی خطے کے معاملات میں مداخلت تیزی سے کم ہو رہی ہے ۔ باقر قالیباف گزشتہ روز عراقی حکام سے ملاقاتوں کیلئے بغداد پہنچے ۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے عراق کے صدر نزار آمیدی سے ملاقات کی ۔عراقی پارلیمنٹ کے سپیکر ہیبت الحلبوسی نے ایرانی ہم منصب باقر قالیباف سے ملاقات میں آبنائے ہرمز کے راستے عراقی تیل کی برآمدات کیلئے خصوصی حیثیت کا مطالبہ کردیا۔
عراقی صدر سے ملاقات سے قبل بغداد ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے باقر قالیباف نے کہا کہ ان کا دورۂ عراق خطے میں نئے نظام کو مضبوط بنانے اور بیرونی مداخلت کے بغیر تمام علاقائی ممالک میں تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں کو تیز کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن فدا مالکی نے کہا امریکا نے جوہری ہتھیار استعمال کیا تو ایران بھی اسی نوعیت کا جواب دے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران میں مہنگائی اور اشیائے ضروریہ میں کمی کا سبب امریکا کی بحری ناکہ بندی ہے ۔تاہم اعدادو شمار کے مطابق ایران نے رواں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران تیل سے متعلق غیر ملکی زرمبادلہ کی مد میں 7.5 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی جو ایران کے سنٹرل بینک کو فراہم کر دی گئی۔ مزید برآں یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 20 جولائی سے ابتک 48 سعودی تیل بردار بحری جہازوں کو سمندری راستے سے گزرنے سے روک دیا جبکہ 8 سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے خبردار کیا ہے کہ حوثی باغی باب المندب آبنائے کے اطراف مزید علاقوں پر قبضے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس سے اہم بحری گزرگاہ کو مزید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ گزشتہ روز عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا، برینٹ نارتھ سی خام تیل کی قیمت 1.4 فیصد اضافہ کے ساتھ 92.26 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 1.5 فیصد اضافہ کے ساتھ 85.29 ڈالر فی بیرل ہوگیا ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments