امریکا کی مزید پابندیاں،تمام ممالک عملدرآمد سے گریز کریں:ایران
مصری و ایرانی بینک، ہانگ کانگ کا ادارہ پابندیوں کی زد میں، چینی بینکوں پر پابندیاں نہیں لگائیں گے :ٹرمپ ہرمز کھولنے کیلئے شرائط کی فہرست بنارہے :رضائی،امریکا نیا بحری بیڑا بھیجے گا، کشیدگی بڑھنے پر یو این کی تشویش
تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق مزید پابندیاں لگاتے ہوئے ہدفی اقدامات کا اعلان کیا ہے جبکہ ایران نے جمعے کے روز امریکا کی جانب سے عائد کی گئی نئی اقتصادی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ریاستی دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ دیگر ممالک بین الاقوامی قانون کے تحت ان پابندیوں پر عمل درآمد نہ کرنے کے پابند ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ مصر کے ‘‘بینک مصر ’’ پر تہران کے ساتھ کاروبار کرنے کی وجہ سے پابندیاں عائد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے ۔ اس مقصد کے لیے متحدہ عرب امارات میں اس کی شاخوں کی امریکی مالیاتی نظام تک رسائی ختم کی جائے گی۔ادھر امریکی محکمہ خزانہ کے حکام نے ہانگ کانگ میں قائم ایک ادارے اور ایران کے بینک ‘‘ملی ’’سے منسلک ایک شخص کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے ۔ ایرانی وزارت خارجہ نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت تمام ممالک اس بات کے پابند ہیں کہ وہ تہران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل درآمد سے گریز کریں۔
ان پابندیوں میں شرکت کا مطلب ایک ریاست کی جانب سے آزاد ریاستوں پر غیر قانونی مرضی مسلط کرنے میں شریک ہونا ہے ۔ تہران نے دیگر ممالک اور اقوام متحدہ کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔امریکی نیول انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ طول پکڑنے کے باعث امریکا ایک نیا طیارہ بردار بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ بھیج رہا ہے ، جو خطے میں حال ہی میں پہنچنے والے ایک دوسرے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی جگہ لے گا۔رپورٹ کے مطابق یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ پر مشتمل سٹرائیک گروپ آئندہ چند ہفتوں میں امریکی مغربی ساحل پر واقع سان ڈیاگو سے روانہ ہوگا اور سات ماہ سے زائد عرصے تک خطے میں تعینات رہے گا۔تھیوڈور روزویلٹ کی تعیناتی یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی جگہ ہوگی، جو جاپان سے روانہ ہو کر گزشتہ ہفتے مشرقِ وسطیٰ پہنچا تھا۔جارج واشنگٹن نے یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ سنبھالی تھی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔یواین سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا امریکی پابندیوں سے متعلق خط موصول ہوچکا ہے اور اسے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے ارکان میں تقسیم کردیا گیا ہے ۔
امریکا جہاں اپنی اقتصادی دباؤ کی مہم پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے ، وہیں دیگر فریق جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا کہ انہوں نے جمعرات کو تہران میں ایرانی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران آبنائے ہرمز میں جنگ سے پہلے کی طرح آزادانہ بحری آمدورفت بحال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سفارت کاری کو دوبارہ درست سمت پر لانا ناممکن نہیں، تاہم امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ یہ دباؤ کے نتیجے میں نہیں ہوگی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ قطری وزیراعظم و وزیر خارجہ سے تعمیری بات چیت ہوئی ہے ، انہوں نے کہا سفارتکاری کی بحالی کیلئے امریکا کو دباؤ کے بجائے اعتماد اور احترام کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا۔تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، امریکا نہ ہی تہران سے ملاقات کا ارادہ رکھتا ہے ، تہران کیخلاف معاشی دباؤ مزید بڑھانے پر توجہ مرکوز ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کیساتھ کاروبار کرنیوالے ممالک کیخلاف بھی کارروائی کرسکتا ہے ، امریکا چینی بینکوں پر پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔امریکی صدر کا مزید کہنا ہے کہ روس کیخلاف کارروائی کا فیصلہ حالات پر منحصر ہوگا۔
ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا دشمن کو ایران کی تمام شرائط قبول کرنا ہوں گی، تمام وعدے پورے کرنا ہی دشمن کے لیے بچ نکلنے کا واحد راستہ ہے ۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ترکیہ میں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔محسن رضائی نے کہا دورہ ترکیہ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے منصوبے اور ٹرمپ کے چھوٹے بیٹے کو قتل کرنے کی افواہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے پھیلائی تھی۔محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے ایرانیوں کی جانب سے ٹرمپ کے قتل کی سازش کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلا کر ٹرمپ کو خوفزدہ کر دیا ہے ، جس سے ان کے فیصلہ سازی کے عمل میں خلل پڑا ہے ۔محسن رضائی نے مزید کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے شرائط کی ایک فہرست تیار کر رہا ہے ، ثالثوں نے تہران سے ان شرائط کو واضح طور پر پیش کرنے کو کہا تھا، ان شرائط میں خطے میں جاری جنگ کا خاتمہ بھی شامل ہے ۔
محسن رضائی نے مزید کہا کہ ایران نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کے لیے ایک مخصوص شپنگ کوریڈور پر اتفاق کیا ہے ، اس راستے کا کچھ حصہ عمانی پانیوں اور کچھ حصہ ایرانی پانیوں میں ہوگا۔’’جمعے کو جاری ہونے والے ابتدائی بحری اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو صرف سات تجارتی مال بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 17 تھی۔ یہ تعداد گزشتہ 10 دن کی اوسط 15 جہاز روزانہ سے بھی کم ہے ۔تاہم جمعے کو تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور وہ ہفتہ وار بنیاد پر بھی کمی کے لیے تیار تھیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ اشارے ہیں کہ سفارتی تعطل کے باوجود آبنائے ہرمز سے زیادہ مقدار میں تیل گزر رہا ہے ، جبکہ خلیجی خطے کے تیل پیدا کرنے والے ممالک بھی نئے حالات کے مطابق تیزی سے خود کو ڈھال رہے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments