امریکا میں جمہوری آزادیاں 50سال کی کم ترین سطح پر
جمہوری اصولوں سے پسپائی دنیا بھر میں آمرانہ رجحان بڑھا رہی :عالمی ادارے کی رپورٹ
سٹاک ہوم( اے ایف پی )امریکا میں جمہوریت کی صورتحال کے اہم اشاریے گزشتہ نصف صدی کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں اور واشنگٹن میں جمہوری اصولوںسے پسپائی دنیا بھر میں آمرانہ اور سخت گیر رہنماؤں کے حوصلے بڑھا رہی ہے ۔یہ انتباہ جمہوریت اور انتخابی نظام کی نگرانی کرنے والے بین الحکومتی ادارے انٹرنیشنل آئی ڈی ای اے نے اپنی نئی رپورٹ میں کیا ہے ۔ ادارے کے مطابق امریکا میں آزادیِ صحافت، عدلیہ کی آزادی اور دیگر اہم جمہوری اشاریوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے ، جبکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کی قوانین پر مبنی عالمی نظام سے پسپائی نے کثیر ملکی تعاون پر اعتماد کو کمزور کیا ہے اور دنیا بھر میں آمرانہ رہنماؤں اور پاپولسٹ سیاست دانوں کو زیادہ بے باک کردیا ہے ۔انٹرنیشنل آئی ڈی ای اے نے 2020 سے 2025 کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں جمہوری صحت کے متعدد پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ ان میں عدلیہ کی آزادی، قابلِ اعتماد انتخابات، آزادیِ اظہار اور انصاف تک رسائی شامل ہیں۔ جائزے میں شامل تقریباً 57 فیصد ممالک میں اس عرصے کے دوران جمہوریت کے کم از کم ایک اشاریے میں تنزلی ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ میں مجموعی طور پر اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں جمہوری ادارے دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ امریکا جیسے بااثر ملک میں جمہوری اصولوں کی کمزوری ان عالمی رجحانات کو مزید تقویت دے سکتی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments