ڈیانا ڈاکٹر حسنات سے شادی کر کے جنوبی افریقہ جاناچاہتی تھیں
چارلس سے شادی کیلئے راضی نہ تھیں ،والد سے بات کی ، منگنی توڑنے کا سوچا آخری برسوں میں زندگی ختم کر نے کا سوچا مگر بیٹوں سے محبت نے روک دیا موت سے دو ماہ قبل سالگرہ پر پھولوں کو دیکھ کر کہا یہ جگہ جناز گاہ لگ رہی ہے بھائی اسپینسر کی کتاب شائع ، قریبی عزیز کی موت یادداشت متاثر کرتی ہے :شاہی محل
لندن (نیوز ایجنسیاں) برطانیہ کی آنجہانی شہزادی ڈیانا پاکستانی نژاد ڈاکٹر حسنات خان سے شادی کرکے ایک نئی زندگی شروع کرنے کیلئے اتنی سنجیدہ تھیں کہ انہوں نے برطانیہ چھوڑ کر جنوبی افریقہ منتقل ہونے کا منصوبہ بھی بنایا تھا۔یہ انکشاف ڈیانا کے چھوٹے بھائی چارلس اسپینسر نے اپنی کتاب Swan Song:Diana, My Sister میں کیا ہے ، جو منگل کو شائع ہوئی۔ اسپینسر کے مطابق 1997 میں ڈیانا کی زندگی برطانیہ میں مسلسل میڈیا کی توجہ اور شاہی خاندان سے وابستہ دباؤ کے باعث مشکل ہوچکی تھی۔ چارلس اسپینسر کے مطابق مارچ 1997 میں ڈیانا اپنے بھائی سے ملنے کیپ ٹاؤن جنوبی افریقہ گئیں۔ ان کے بقول اس سفر کا ایک مقصد یہ دیکھنا بھی تھا کہ آیا جنوبی افریقہ ان کے اور ڈاکٹر حسنات خان کیلئے ایسی جگہ بن سکتا ہے جہاں وہ میڈیا کی غیر معمولی توجہ سے دوررہ کر معمول کی زندگی گزار سکیں۔ ڈیانا نے اس مقصد کیلئے معروف ماہر قلب ڈاکٹر کرسٹیان برنارڈ سے بھی رابطہ کیا۔ برنارڈ نے دنیا کا پہلا کامیاب انسانی دل کا ٹرانسپلانٹ کرنے کے باعث عالمی شہرت حاصل کی تھی اور کیپ ٹاؤن کے گروٹ شور ہسپتال سے وابستہ رہے تھے ۔
اسپینسر کے مطابق ڈیانا چاہتی تھیں کہ حسنات خان کو اسی ہسپتال میں ملازمت کا کوئی موقع مل جائے ۔ کتاب میں دعویٰ یہ بھی ہے کہ ڈیانا کی موت کے بعد آخری رسومات کے انتظامات پر اختلاف کے دوران اس وقت کے شہزادہ چارلس نے اسپینسر سے کہا تھا کہ یقین رکھو، ہم اسے جلد بھول جائیں گے ۔ بکنگھم پیلس کی جانب سے کہا گیا کہ قریبی عزیز کی موت کا غم انسان کی سوچ، فیصلہ سازی اور یادداشت کو متاثر کرسکتا ہے اور کئی برس گزرنے کے بعد واقعات کو یاد کرنے کا انداز بھی مختلف ہوسکتا ہے ۔اسپینسر کے مطابق ڈیانا نے 1981 میں چارلس سے شادی سے پہلے ہی یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شاید چارلس ان سے محبت نہیں کرتے ۔ ڈیانا نے اپنے والد سے بھی اس بارے میں بات کی تھی اور ایک موقع پر اپنی منگنی ختم کرنے پر غور کیا، تاہم بالآخر شادی کر لی۔ کتاب میں لکھا ہے کہ ڈیانا نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں ایک سے زیادہ مرتبہ انگلینڈ کے ساحلی علاقے بیچی ہیڈ کا رخ کیا، جہاں بلند چٹانیں موجود ہیں، اور اس دوران ان کے ذہن میں اپنی زندگی ختم کرنے کے خیالات آئے ۔اسپینسر کے مطابق ڈیانا کی اپنے بیٹوں سے محبت نے انہیں اس انتہائی قدم سے روک دیا۔اسپینسر کے مطابق ایک مرتبہ ڈیانا نے ان سے ملاقات کے دوران بتایا کہ وہ چارلس سے طلاق لینے والی ہیں۔جب اسپینسر نے انہیں خبردار کیا کہ عوام شاید اس فیصلے کو آسانی سے قبول نہ کریں تو ان کے مطابق ڈیانا نے جواب دیا لیکن کارلوس!میرے شوہر اپنے ذاتی خادم سے محبت کرتے ہیں۔اسپینسر کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ ڈیانا کس شخص کا ذکر کر رہی تھیں اور انہیں یہ بات غیر معمولی اور ناقابلِ یقین محسوس ہوئی۔ موت سے دو ماہ قبل یکم جولائی 1997کو ڈیانا کی 36ویں سالگرہ تھی۔ چارلس اسپینسر کے مطابق ایک عزیز نے انہیں سالگرہ پر گلدستہ بھیجا۔ ڈیانا نے شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھاکہ میں بہت خوش قسمت رہی ہوں!میرا گھر اتنے خوبصورت پھولوں سے بھرا ہوا ہے کہ یہ جگہ جنازہ گاہ جیسی لگ رہی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments