بھارتی الیکشن کمیشن کیخلاف احتجاج تیسرے روز بھی جاری
ممبئی میں ہزاروں افراد کا بھارتی پرچم اٹھا کر گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ مظاہروں میں 3 خاتون صحافیوں کا پولیس پر جنسی ہراسانی کا الزام، تحقیقات شروع
نئی دہلی(اے ایف پی)بھارت میں اتوار کو الیکشن کمیشن کے سربراہ گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا، مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے دوران لاکھوں نام خارج کیے گئے اور اس عمل میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ ممبئی میں ہزاروں افراد نے بھارتی پرچم اٹھا کر گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ نئی دہلی میں پولیس اسٹیشن کے باہر کارکنوں نے احتجاج کیا۔ بھارت میں الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر جنسی ہراسانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد تحقیقات شروع کردی گئیں۔ نئی دہلی پولیس کے مطابق تین خاتون صحافیوں نے اہلکاروں پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے ہیں، جن کی منصفانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائے گی۔ ایک متاثرہ خاتون نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں الزام لگایا کہ ایک پولیس اہلکار نے اسے دھکا دیا اور نامناسب انداز میں چھوا۔ ادھر بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم کے حالیہ واقعات نے ایک بار پھر سلامتی کے خدشات بڑھا دئیے ، دارالحکومت میں 17 سالہ لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد پارکوں میں پولیس گشت، روشنی اور نگرانی بڑھانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ بھارتی نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق ملک میں روزانہ اوسطاً 80 سے زائد زیادتی کے مقدمات درج ہوتے ہیں، تاہم خواتین کے حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ متعدد واقعات رپورٹ نہیں ہوتے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments