امریکا:نڈال حسن کی سزائے موت براہ راست دکھانے پر اختلافات

امریکا:نڈال حسن کی سزائے موت براہ راست دکھانے پر اختلافات

فیصلہ نہیں ہوا:ٹرمپ ،سر عام سزائے موت جہادیوں کا طریقہ :رکن کانگریس

واشنگٹن (اے ایف پی)امریکا میں نڈال حسن کی سزائے موت براہ راست دکھانے پر اختلافات پیدا ہو گئے ، ٹرمپ نے اس بارے میں شکوک ظاہر کیے کہ آیا امریکی فوجیوں کے قاتل کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت براہِ راست نشر کی جائے گی یا نہیں۔ندال حسن کو 3 دسمبر کو ٹیکساس کے فوجی اڈے فورٹ ہڈ میں سزائے موت دی جائے گی۔ اس نے 2009 میں اسی مقام پر فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک کیا تھا۔ پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے جمعرات کو بتایا تھا کہ کارروائی براہِ راست نشر کی جائے گی۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی کہا تھا کہ عوام کو یہ کارروائی دکھانے کا انتظام کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ حکام اس بارے میں فیصلہ کر رہے ہیں،سزائے موت کو براہ راست دکھانے پر فیصلہ نہیں کیا، تاہم مجھے اس بات کی پروا نہیں کہ حسن کو کس طریقے سے موت دی جاتی ہے ۔نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ براہِ راست نشریات ہوں گی یا نہیں۔ تاہم انہوں نے حسن کو امریکی سرزمین پر دہشت گردی کے بدترین واقعات میں سے ایک کا ذمہ دار قرار دیا۔ریپبلکن رکن کانگریس آسٹن اسکاٹ نے سزائے موت کی حمایت کرتے ہوئے براہِ راست نشریات کو جہادیوں کا طریقہ قرار دیا۔ ڈیموکریٹ سینیٹر مارک کیلی نے بھی کہا کہ حسن کو انصاف کا سامنا کرنا چاہیے ، لیکن عوام کے سامنے سزائے موت دینے پر سوال اٹھایا۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے براہِ راست نشریات کو تشدد پر پابندی کے منافی قرار دیا جبکہ امریکی کیتھولک بشپس کانفرنس نے منصوبے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...