فرانس:مہنگائی کیخلاف مظاہرے ، جھڑپیں، پولیس پر پٹرول بم حملے
احتجاجی مارچ روکنے پر طلبا کا آئندہ ہفتے سکولوں اور جامعات کی بندش کا اعلان جرمنی میں بھی ملک گیر مظاہرے ، مہنگائی ،حکومتی پالیسیوں کیخلاف احتجاج
پیرس،فرینکفرٹ(اے ایف پی)فرانس میں مہنگائی اور پولیس تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران پیرس، لیون اور تولوز میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پیرس میں مارچ کے اختتام پر مشتعل افراد کے ایک گروہ نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پٹرول بم بھی پھینکے ۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لیون میں بھی مظاہرین نے پولیس پر اشیا پھینکیں، جس کے جواب میں آنسو گیس استعمال کی گئی۔ جنوبی شہر تولوز میں غیر منظور شدہ احتجاج کے دوران ہزاروں افراد جمع ہوئے ، جنہیں منتشر کرنے کیلئے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ ہالووین کے موقع پر بعض مظاہرین نے مسخروں اور چڑیلوں کے لباس پہن رکھے تھے۔
ملک بھر میں مسلسل تیسرے ہفتے ہونے والے مظاہرے ابتدا میں پُرامن رہے ، تاہم بعدازاں کشیدگی بڑھ گئی۔ پیرس میں مارچ کے اختتام پر سیاہ لباس اور نقاب پہنے افراد نے ہتھوڑوں سے سڑک کی اینٹیں اکھاڑ کر پولیس پر پھینکیں اور ایک آتش گیر آلہ بھی استعمال کیا۔پولیس نے ملک بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے 70 ہزار اہلکار تعینات کیے تھے ۔فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں 3 لاکھ 20 ہزار افراد احتجاج میں شریک ہوئے ، جبکہ تنظیموں نے شرکا کی تعداد 5 لاکھ بتائی۔ پیرس میں 70 ہزار افراد سڑکوں پر نکلے۔ حکام نے ممکنہ ہنگامہ آرائی کے پیش نظر سکیورٹی سخت کر رکھی تھی۔فرانس میں طلبہ نے دارالحکومت کے مرکزی علاقے میں مارچ کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج کرتے ہوئے آئندہ ہفتے سکولوں اور جامعات کی بندش کا اعلان کردیا۔
طلبہ یونین کی ترجمان سبرین نے کہا کہ منگل اور جمعرات کو تعلیمی اداروں کی ناکہ بندی کی جائے گی، جبکہ 5 نومبر کو مزدوروں اور ٹریڈ یونینز کے احتجاج میں شرکت ہوگی۔ ادھر جرمنی کے مختلف شہروں میں ہزاروں نوجوانوں نے مہنگائی، تعلیمی مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ۔ برلن، فرینکفرٹ اور کولون سمیت 30 سے زائد شہروں میں ‘جن زی ریگلٹ’ نامی تحریک کے تحت ریلیاں نکالی گئیں۔ مظاہرین نے چانسلر فریڈرک مرز سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے ۔ بعض مقامات پر آتش بازی اور گرفتاریوں کی اطلاعات ملی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments