افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف دہشتگردی تعلقات میں رکاوٹ ہے: وزارت اطلاعات
اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ افغان طالبان ترجمان کی حالیہ ٹوئٹ پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کی اصل وجوہات سے چشم پوشی کے مترادف ہے، افغان طالبان قیادت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں خرابی کی بنیادی وجہ کو نظر انداز کر رہی ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی ایک ریڈ لائن ہے اور شہریوں کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی دونوں ممالک کے تعلقات میں بنیادی رکاوٹ ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کی ذمہ دار ہے۔
وزارت اطلاعات کا کہنا تھا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات سے مسلسل گریز پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہے۔
اِسی طرح دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر الزام تراشی اور کھوکھلی یقین دہانیاں بحران کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتیں۔ افغان طالبان قیادت کو دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے اور یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق کیے جائیں گے، پاکستان کی سلامتی کو افغان طالبان حکومت کی بے عملی، ٹال مٹول یا غلط ترجیحات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستانی شہریوں کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے اور قومی سلامتی کے معاملے پر پاکستان کے عزم کو کسی قسم کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔
دوسری جانب بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ افغان طالبان قیادت کو چاہیے کہ وہ محض بیانات اور یقین دہانیوں کے بجائے اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کرے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments