ایمر جنسی کے بعد کی پی ٹی آئی
اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا بھی خاتمہ ہو چکا ہے، پارٹی قیادت کی جانب سے گورنر راج کے نفاذ کی صورت میں ایک بڑے عوامی ردعمل کے دعوے کئے جا رہے تھے لیکن صوبے میں صورتحال پارٹی قیادت کی توقعات کے برعکس نظر آئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عوامی سطح پر صوبائی حکومت کے خاتمے پر کسی نمایاں ردعمل کا سامنے نہ آنا خیبر پختونخوا میں مسلسل تیرہ سال تک حکومت کرنے والی جماعت کی مقبولیت میں کمی کی غمازی کر رہا ہے اور یہ پارٹی کی صوبائی، ضلعی اور شہری تنظیموں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بھی ہے۔
اس صورتحال کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی تنظیمیں ہوں یا مرکزی قیادت، ہر جگہ بے چینی اور انتشار کی فضا ہے، جہاں پارٹی رہنما بیرونی چیلنجز سے نمٹنے میں ناکامی کے بعد باہم الجھتے دکھائی دے رہے ہیں، پاکستان تحریک انصاف میں بڑھتے ہوئے اختلافات اور انتشار کی یہ واضح جھلک منگل کے روز ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس میں بھی دکھائی دی جہاں لانگ مارچ کی حکمت عملی پر بہت سے اراکین پھٹ پڑے، احتجاجی حکمت عملی پر شدید تنقید کی اور مذاکرات پر زور دیا، ان اراکین نے محمود خان اچکزئی کے سیاسی رابطوں اور مذاکرات کے حوالے سے فیصلوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
اراکین نے پارٹی قیادت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت چلی گئی لیکن اس حوالے سے پارٹی ردعمل کہاں ہے؟ پارٹی اجلاس میں سامنے آنے والا ردعمل پی ٹی آئی کے مرکزی سطح پر واضح طور پر دو بڑے دھڑوں میں بٹ جانے کا عندیہ ہے، ان دھڑوں میں سیاسی اور تنظیمی حکمت عملی کے حوالے سے واضح اختلافات ہیں۔
پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور ان کے حمایتی رہنماؤں پر مشتمل گروپ کا مؤقف ہے کہ تمام فیصلے پارٹی کے بانی چیئرمین کی ہدایات کی روشنی میں ہی ہوں گے، دوسری جانب علی ظفر اور ان حامی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ تمام فیصلے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی اراکین کی اکثریت رائے سے ہونے چاہئیں، دونوں دھڑوں میں پارٹی کے امور کی انجام دہی کے حوالے سے بنیادی اختلاف سے اندرونی انتشار بھی بڑھ رہا ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مخالف دھڑا مرکزی عہدیداروں کے دھڑے سے عددی اکثریت رکھتا ہے جس کی وجہ سے پارٹی عہدیداروں کو آنے والے وقت میں اندرونی طور پر مزید بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پارٹی کی مرکزی قیادت کو یہ چیلنج بھی پیش آیا کہ پارلیمانی کمیٹی کے فیصلے اپوزیشن لیڈر کی منظوری سے مشروط کرنے پر سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے بھائی اور رکن قومی اسمبلی فیصل امین اور بیرسٹر گوہر میں جھڑپ ہوگئی۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے تمام اختیار اپوزیشن لیڈر کو دیا ہے، اجلاس کا حتمی اعلامیہ اسی وقت جاری ہوگا جب وہ اس کی منظوری دیں گے، جس پر فیصل امین طیش میں آ گئے، ان کا کہنا تھا کہ سات گھنٹے کے اجلاس کے بعد فیصلے اب بھی اپوزیشن لیڈر کی منظوری سے مشروط ہیں تو پھر ہم لوگوں کی موجودگی کی کیا ضرورت ہے، اس کے بعد وہ اجلاس سے واک آوٹ کر گئے۔
مخالف دھڑے کے حامی اراکین نے قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کا مطالبہ بھی کیا ہے، ان کا اصرار تھا کہ کمیٹیوں میں واپس جایا جائے، اگر بانی سے ملاقات میں ان کا اعتراض آیا تو دوبارہ استعفے دیئے جا سکتے ہیں، اس معاملے پر بھی بیرسٹر گوہر کا مؤقف تھا کہ قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کا فیصلہ پارلیمانی کمیٹی نہیں کر سکتی، قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کا فیصلہ کیا گیا تو یہ مائنس بانی پی ٹی آئی ہوگا۔
پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو صوبائی حکومت پر حملہ قرار دے کر ایمرجنسی اور گورنر راج فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، سہیل آفریدی حکومت کی بحالی اور اسیر رہنماؤں کی رہائی کے مطالبات بھی کئے گئے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے بااختیار بنائی گئی پولیٹیکل، کور کمیٹی اور پارٹی تنظیموں کے اختیارات کو تسلیم کرتے ہیں، حتمی فیصلوں کا اختیار بانی پی ٹی آئی اور ان کی بااختیار کردہ قیادت کے پاس ہی رہے گا، تاہم صوبائی حکومت کی بحالی یا گورنر راج کے خاتمے کی جانب پارٹی کی جانب سے کیا قانونی یا سیاسی حکمت عملی اپنائی جائے گی یہ پہلو تشنہ ہی دکھائی دیا۔
دوسری جانب ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی زور پکڑتی بحث کے دوران اسلام آباد سمیت صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، گزشتہ دنوں کے دوران نچلی سطح پر اختیارات کی تقسیم کے حق میں بھاشن دینے والی سیاسی حکومتوں کی جانب سے لیت و لعل کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے دوٹوک فیصلے سنائے گئے ہیں جنہیں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی عملداری اور ذمہ داری کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015ء میں ہوئے تھے جبکہ منتخب بلدیاتی حکومت کی مدت 14 فروری 2021ء کو ختم ہوگئی تھی، قانون کے مطابق بلدیاتی حکومت کی مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر انتخابات کرانا ضروری تھا تاہم قانون میں بار بار تبدیلیوں اور انتظامی مسائل کے باعث انتخابی عمل تاخیر کا شکار رہا جس پر الیکشن کمیشن نے نئی قانون سازی کا انتظار کرنے کے بجائے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات 2015ء کے قانون کے تحت ہی کروانے کا اعلان کرتے ہوئے الیکشن شیڈول جاری کر دیا۔
شیڈول کے مطابق اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ 20دسمبر کو ہوگی، الیکشن کمیشن کی جانب سے دوسرا اہم فیصلہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے باوجود بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے سنایا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق صوبے کے جن اضلاع میں حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہو چکا ہے وہاں بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں گے ،جس کیلئے متعلقہ حکام کو شیڈول جاری کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے، جن اضلاع میں ایمرجنسی کا نفاذ ہے وہاں ابھی الیکشن نہیں کرائے جائیں گے، الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے بھی بڑا فیصلہ جلد سنائے جانے کا امکان ہے۔