چیونٹیوں کا قدرتی سرچ انجن!
لاہور: (دانیال حسن چغتائی) ہمارے روزمرہ معمولات میں باورچی خانہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے، صبح کی چائے بناتے ہوئے چینی کے چند دانے چولہے کے نیچے گر جانا، دودھ اور سوجی کی کھیر کا کوئی قطرہ فرش پر ٹپک جانا یا بچوں کے ہاتھ سے مٹھائی کا چھوٹا سا ٹکڑا میز کے نیچے جا گرنا بظاہر معمولی واقعات ہیں۔
ہم صفائی کا کپڑا پھیر کر سمجھتے ہیں کہ ماحول صاف ہو چکا ہے، لیکن حقیقت میں یہی معمولی غذائی ذرات ایک ننھی مخلوق کی سرگرمیوں کا آغاز بن جاتے ہیں۔
صبح بیدار ہونے پر اکثر فرش پر پڑے مٹھائی کے ذرے یا شیرینی کے قطرے کے گرد چیونٹیوں کی ایک طویل اور منظم قطار دکھائی دیتی ہے، سوال یہ ہے کہ چیونٹیاں اتنی تیزی اور مہارت سے میٹھے کی موجودگی کا پتا کیسے لگا لیتی ہیں؟ آخر ان کا نظامِ معلومات کس قدر طاقتور ہے؟ سائنسی نقطہ نظر سے چیونٹیوں کی یہ صلاحیت محض خوشبو سونگھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے کیمیائی اشاروں، حسی یادداشت اور اجتماعی فیصلہ سازی پر مبنی ایک پیچیدہ نظام کام کرتا ہے، اگر چیونٹیوں کو فطرت کا قدیم سرچ انجن کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، کیونکہ یہ اپنی خوراک تلاش کرنے کیلئے قدرتی سینسرز اور کیمیائی نیٹ ورک استعمال کرتی ہیں۔
چیونٹیوں کی دنیا انواع کے اعتبار سے خاصی متنوع ہے، برصغیر میں چیونٹیوں کی سیکڑوں اقسام پائی جاتی ہیں، جبکہ انسانی آبادیوں اور ان کے گرد و پیش کے ماحول میں بھی متعدد انواع سرگرم رہتی ہیں، اگرچہ ان کی جسمانی ساخت اور جینیاتی خصوصیات میں فرق ہوتا ہے، تاہم خوراک کی تلاش اور کیمیائی رابطے کے بنیادی اصول بڑی حد تک یکساں ہیں۔
چیونٹیوں کی خوراک تلاش کرنے کی مہم کا آغاز کالونی کے معائنے سے ہوتا ہے، مزدور یا اسکاؤٹ چیونٹیاں دیواروں کی دراڑوں، کھڑکیوں کے فریموں، پائپوں کے راستوں اور فرش کے کناروں کا مسلسل جائزہ لیتی رہتی ہیں، ان کا بنیادی مقصد خوراک کے نئے ذرائع تلاش کرنا ہوتا ہے، اس کام میں ان کے سر پر موجود دو اینٹینا بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، یہ محض سونگھنے کے اعضا نہیں بلکہ ماحول میں موجود کیمیائی مادوں اور مختلف اشاروں کو محسوس کرنے کے حساس آلات ہیں، ان کی مدد سے چیونٹیاں خوراک کی نوعیت اور اپنے اردگرد ہونے والی تبدیلیوں کا اندازہ لگاتی ہیں، ان کے اینٹینا اور اگلی ٹانگوں پر موجود مخصوص حسی ریسیپٹرز انہیں مختلف غذائی اجزا، خصوصاً شکر، کی شناخت میں مدد دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ فرش پر موجود شربت، گڑ، مٹھائی یا چائے کے داغوں میں خوراک کے آثار تلاش کر لیتی ہیں۔
خوراک مل جانے کے بعد چیونٹی اسے اکیلے کھانے کے بجائے اپنی پوری کالونی تک اس کی اطلاع پہنچانے کا انتظام کرتی ہے، اس مقصد کیلئے وہ ایک خاص کیمیائی مادہ خارج کرتی ہے جسے فیرومون (Pheromone) کہا جاتا ہے، جب کوئی اسکاؤٹ چیونٹی خوراک کا مقام دریافت کرتی ہے تو واپس کالونی کی طرف جاتے ہوئے زمین پر فیرومون کی ایک باریک لکیر چھوڑتی جاتی ہے، دوسری چیونٹیاں اپنے اینٹینا کی مدد سے اس کیمیائی راستے کو محسوس کرتی ہیں اور اسی پر چلتے ہوئے خوراک تک پہنچ جاتی ہیں۔
یہ نظام انسانوں کے گوگل میپس یا جی پی ایس نیویگیشن سے حیرت انگیز مماثلت رکھتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ انسان سیٹلائٹ اور ڈیجیٹل نقشوں سے راستہ تلاش کرتے ہیں، جبکہ چیونٹیاں کیمیائی نشانات کے ذریعے اپنی منزل تک پہنچتی ہیں، فیرومون کی یہ لکیریں وقت گزرنے کے ساتھ کمزور پڑ جاتی ہیں، تاہم اگر خوراک وافر مقدار میں موجود ہو تو مسلسل آنے جانے والی چیونٹیاں ان نشانات کو تازہ کرتی رہتی ہیں، جس سے راستہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔
چیونٹیوں کی زندگی میں اینٹینا کی اہمیت کئی حوالوں سے غیر معمولی ہے، یہ انہیں فیرومون کی باریک لکیروں کی شناخت، اپنی کالونی کے ساتھیوں اور دشمن چیونٹیوں میں فرق کرنے، ماحول کی تبدیلیوں کو محسوس کرنے اور خوراک کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
یوں ان کے باہمی رابطے اور اجتماعی سرگرمیوں کا پورا نظام انہی حسی صلاحیتوں پر استوار ہوتا ہے، چیونٹیوں کا یہ منظم طرزِ عمل قدرت کے حیرت انگیز نظام کی ایک روشن مثال ہے، جس چینی کے دانے یا کھیر کے قطرے کو ہم معمولی سمجھ کر فرش پر چھوڑ دیتے ہیں، وہ ان ننھے حشرات کی دنیا میں ایک بڑی غذائی نعمت کی حیثیت رکھتا ہے، چند لمحوں میں اس کی اطلاع پوری کالونی تک پہنچ جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے چیونٹیوں کی ایک منظم فوج وہاں پہنچ جاتی ہے۔
اگلی بار جب آپ اپنے باورچی خانے کے فرش پر چیونٹیوں کی لمبی قطار دیکھیں تو یاد رکھیے کہ یہ محض چند حشرات کی نقل و حرکت نہیں بلکہ قدرتی کیمیائی رابطے، حیاتیاتی حسّاسیت اور اجتماعی نظم و ضبط کا ایک حیرت انگیز مظاہرہ ہے، جسے سمجھنے کیلئے جدید سائنس مسلسل تحقیق کر رہی ہے۔