ادارتی صفحہ - ورلڈ میڈیا
پاکستان اور بیرونی دنیا کے اہم ترین ایشوز پر عالمی اخبارات و جرائد میں چھپنے والی تحریروں کا ترجمہ
WhatsApp: 0344 4450229

سعودی عرب بدل رہا ہے

تحریر: کیٹ کیلی

چھوٹی سی دکان میںجہاں خولود احمد اسلامی لباس عبایا فروخت کرتی ہے ‘رنگوں کی قوس قزح بکھری نظر آتی ہے۔ماضی میںسعودی خواتین ہر موقع پر صرف سیاہ رنگ کا عبایا ہی پہنتی تھیں۔خولود کے مطابق اب تو وہ ہر موقع کے لیے الگ رنگ کا عبایا پہنتی ہیں ‘شادی پر ‘کسی کیفے میںسہیلیوں سے ملتے ہوئے یا والدین سے ملنے کے لیے جاتے ہوئے مختلف عبایا ہوتا ہے۔اس نے بتایا کہ ریاض میں رنگ دار عبایا پہننا عجیب سمجھا جاتا تھا مگر ایک سال کے اندر کافی تبدیلی آچکی ہے۔اب یہ روٹین کی بات سمجھی جاتی ہے۔جب سے ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب کے حقیقی حکمران بنے ہیں انہوں نے ویژن 2030 ء کے نام پر سعودی معاشرے کو ایک جدید سماج بنانے کے لیے خواتین کو نئے مواقع دینے کا عزم کررکھا ہے۔

ریاض کی سڑکوں پر لگے پوسٹرز او رجھنڈوں پر یہ بتایا گیا ہے کہ اب سعودی عرب تیل پر انحصار ختم کر کے نئی صنعتوں جن میں ٹیکنالوجی ‘فارما سیوٹیکل اور سیاحت شامل ہیں کی طرف جا رہا ہے۔مگر نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اس صحرائی ملک میںسرمایہ کاری کی دعوت بھی دی گئی ہے۔گزشتہ پانچ برسوںمیں خواتین کی شرح ملازمت اٹھارہ فیصدسے بڑھ کر 32فیصدتک پہنچ گئی ہے ۔ اب وہ ریاض ایئر پورٹ پرکسٹمز آفیسرز ‘بینکوں میں پبلک ریلیشنز آفیسر ز اور ریستورانوں میں میز بانی کے فرائض بھی انجام دے رہی ہیں۔عوامی مقامات پر بھی مرد عورت کی تخصیص ختم کر دی گئی ہے۔ریاض میں ’’اوور ڈوز‘‘ نامی کافی شاپ پر اب مرد اور خواتین مخلوط ماحول میں کافی کے مزے لے سکتے ہیں۔خواتین سٹیڈیم میں جا کر کھیلوں کے ایونٹس میں حصہ لے سکتی ہیںجس کی 

چند سال پہلے تک اجازت نہیں تھی۔اب گیٹ پر مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ داخلی راستے نہیں ہوتے۔اب وہ خو دپاسپورٹ اپلائی کر سکتی ہیں اکیلی رہ سکتی ہیں اور اکیلے سفر کرسکتی ہیں۔مگر یہ مساوی تبدیلی نہیں ہے۔کچھ اصلاحات کے باوجود ابھی سرپرستی کا نظام قائم ہے‘یعنی خواتین کو ابھی تک شادی اور کئی دیگر اہم فیصلے کر نے کے لیے مردوں سے اجازت لینا پڑتی ہے جن میں ان کے والدین ‘شوہر حتیٰ کہ ان کے بیٹے بھی شامل ہوتے ہیں۔حقوقِ نسواں کی ایک معروف کارکن کو اپنی بعض تحریروں کی وجہ سے تین سال کے لیے جیل جاناپڑا ہے حالانکہ وہ انہی تبدیلیوں کی حمایت کرتی تھی جو پرنس محمد بن سلمان لا رہے ہیںجن میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت بھی شامل ہے۔جب سے اسے رہائی ملی ہے اس نے سعودی خواتین کے سماجی مرتبے پر ریسرچ پیپر شائع کروایا ہے۔

روز مرہ زندگی میں بھی کئی اقدامات نظر آتے ہیں۔ریاض میں پہنے جانے والے سعودی خواتین کے لباس پر ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے ۔ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر ہونے کے باوجود ابھی تک اسے لبرل نہیں کہا جا سکتا حالانکہ عبایا نہ پہننے والی خواتین  بھی لمبی آستینوں والے کپڑے پہنتی ہیں۔ 

یقینا وہ اپنی نئی تنخواہوں سے جدید ڈیزائن کے بوٹ اوربرینڈڈ ڈریس خریدتی ہوں گی مگر اس طرح کے لباس آج بھی صرف نجی محفلوں میں ہی پہنے جاتے ہیں۔19سالہ مرویٰ ایک یونیورسٹی کی طالبہ ہیں اور وہ خولود کے سٹور سے ہی شاپنگ کر تی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اب یہ پہلے کی طرح نہیں ہے‘ جب آپ سب کو حجاب اور ہر چیز پہننی پڑتی تھی۔ان کا اشارہ سعودی خواتین کے روایتی ہیڈ سکارف کی طرف تھا ۔اب آپ کے پاس فری چوائس ہوتا ہے مگر ایک محدود لیول تک کیونکہ آپ اپنے جسم کی نمائش نہیں کر سکتے ۔ تاہم اب حالات کافی حد تک تبدیل ہو چکے ہیں مگر کلچر وہی قدامت پسندانہ ہے اور ہر وقت حکومت کے ناراض ہونے کا خوف رہتا ہے۔اسی لیے ریاض میں مرویٰ سمیت انٹرویو دینے والے تمام لوگوں نے اپنا پورا نام بتانے سے انکار کر دیا تھا۔مرویٰ نے مزید بتایا کہ اب کئی کلچرل تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ دکاندار نماز کے اوقات میں بھی اپنی دکانیں کھلی رکھ سکتے ہیں تاکہ گاہکوں اور دکانداروں دونوں کے لیے آسانی پیدا ہو۔ تاہم ہر جگہ اپنی نوعیت کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔جو لوگ اپنے عقائد کے پکے ہیں وہ تو ہر صورت میں نماز پڑھیں گے مگر دکانداروں کا معمول کا رویہ ان کے لیے اشتعال انگیز ثابت ہو سکتا ہے۔مرویٰ کے خیال میں یہ ایسا لگے گا کہ آپ نماز کے اوقات کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ان کی ایک دوست جنہوں نے عبایا کے نیچے پینٹ اور سنیکرز پہن رکھے تھے اور اپنی  کلائی پر ٹیٹو بنوا رکھا تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ مجھے کسی پر بھروسہ نہیں۔وہ بھی ان کی ہاں میں ہاں ملا رہی تھی۔

چند منٹ بعد اذان کی آواز آنے لگی تو کئی سٹورز کے مرد ملازمین نے اپنے سٹور ز کے دروازے لاک کر دیے اور اوپر کی منزل پر نماز اداکرنے کے لیے چلے گئے۔گرائونڈ فلو پر 10خواتین نے قالین نما جائے نماز اٹھائے اور ایک کونے میں جا کر نماز ادا کرنے لگیں۔باقی خواتین ایک کونے میں بیٹھی رہیں اور اپنے بچوں کو بیٹری سے چلنے والی کاروں میں انجوائے کر تے دیکھ رہی تھیں۔چھ بچوں کے باپ نے جس کا نِک نیم ابو عبداللہ تھا بتایا کہ مجھے نماز کے یہ لچک دار اوقات زیادہ پسند آئے ہیں۔حتیٰ کہ خواتین مخصوص ایام کے دوران ایک ہفتے کے لیے بالکل ہی وضو نہیں کر سکتیں  کیونکہ انہیں نماز کی ممانعت ہوتی ہے۔ابو عبداللہ کی بیٹیاں بھی پاس ہی کھڑی فرنچ فرائزکھا رہی تھیں۔ایک بیٹی نوت القحطانی بولی کہ میں تو سعودی عرب کی خواتین میں تبدیلیاں دیکھ کر حیران ہوں‘میں بھی کام کرنا چاہتی ہوں ‘میں ایک ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں۔تاہم اس کے باپ کا خیال تھا کہ ہر ڈریم جاب خواتین کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔مثال کے طور پر پلمبر یا کنسٹرکشن کا کا م وغیرہ ۔وہ بولا کہ بہتر ہوگا کہ وہ خواتین کے لیے مناسب کام ہی کرے۔

اس مال سے پانچ میل شمال میں ایک فٹ بال کلب ’’الشہاب ‘‘کا میچ ہو رہا تھا ۔جب بھی گول ہوتا تو تماشائی زور دار نعرہ لگاتے ۔سٹیڈیم کے مردوں والے حصے میں سینکڑوں لوگ نعرے لگا رہے تھے اور تالیاں بجا رہے تھے۔سٹیڈیم کی فیملی سائڈ میں خواتین اور بچے بیٹھے تھے ۔کنگ فہد میڈیکل سٹی کی ایک نرس نجیبہ بھی اپنی دو ساتھیو ں سمیت یہ میچ دیکھ رہی تھی۔2018ء میں اجازت ملنے کے بعد وہ دوسری مرتبہ یہ میچ دیکھنے آئی تھی۔نجیبہ اور اس کی ساتھیوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں بہت سی خواتین نے ہسپتال میں کام کرنا شروع کر دیا ہے اور خواتین کے لیے میڈیکل کا شعبہ پسندیدہ سمجھا جا رہا ہے ۔نجیبہ جو ہسپتال کے بچوں کے وارڈ میں انتہائی نگہداشت یونٹ میں کام کرتی ہے بولی کہ اب فیملی اپنی بیٹی یا بیوی کے ہیلتھ کیئرکے شعبے میں کام کر نے کو قبول کرلیتی ہے۔

کئی خواتین تماشائیوں نے بتایا کہ انہوں نے کوئی بھی فٹ بال میچ نہیں چھوڑا۔نو بجے سے کچھ دیر بعد میچ ختم ہوگیا جو الشہاب کلب نے 3-0سے جیت لیا تھا۔پھر ہجوم منتشر ہو گیا ۔ایک کھلاڑی اپنے درجنوں فینز کو آٹو گراف دے رہا تھا ۔اسے نوجوانوں نے گھیر رکھا تھا ۔کچھ نے بچوں کو اپنے کندھوں پر بٹھایا ہوا تھا۔ایک خاتون جس نے گلابی فریم والا چشمہ اور  حجاب پہنا ہوا تھا‘ اپنا فون اوپر اٹھایا اور اس کھلاڑی کا فوٹو بنا لیا ۔

(بشکریہ : نیو یارک ٹائمز، انتخاب : دنیا ریسرچ سیل، مترجم : زاہد رامے)

(ادارے کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں