ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے‘ ہارا ہوا وہ نہیں ہوتا جس کا نقصان ہو۔ ہارا ہوا وہ ہوتا ہے جو شکست تسلیم کر لے۔ تاریخ میں ایسا بھی ہوا ہے کہ نقصان ہوئے بغیر دل اور حوصلے بیٹھ گئے جیسا کہ فرانس کے ساتھ 1940ء میں ہوا۔ پیرس پر ایک بم بھی نہیں گرا تھا اور فرانس گھٹنے ٹیکنے کیلئے تیار ہو گیا۔ 1971ء کی مثال بھی دی جا سکتی ہے لیکن رہنے دیجیے‘ بہتوں کو برا لگے گا۔ صہیونی ریاست اور امریکہ کی بمباری سے ایران کا نقصان بہت ہوا ہے لیکن جھاگ ایران کے منہ سے نہیں ٹپک رہی۔ پریشانی کا عالم امریکہ کا ہے کہ ایرانی ریاست ہاتھ کیوں نہیں جوڑ رہی۔ ایران پر حملے جاری ہیں اور امریکی میڈیا اب کہنے پر مجبور ہو رہا ہے کہ ٹرمپ اس جنگ میں پھنس گیا ہے اور نکلنے کا اُسے کوئی راستہ نہیں مل رہا۔ اسی لیے طرح طرح کی لایعنی باتیں امریکی صدر کے منہ سے نکل رہی ہیں۔ جیسا کہ یہ بے تکی پھبتی کہ ایران مذاکرات کیلئے تیار نہ ہوا تو اُسے زمانۂ قدیم میں پہنچا دیا جائے گا۔ یعنی پریشانی یہ کہ جو ہم کر سکتے تھے انتہا کا کر دیا اور ایرانی ریاست پر کچھ اثر نہیں پڑا۔
یہ جنگ ابھی جاری ہے لیکن اس کے نتیجے میں بہت ہی گہرے اثرات ابھی سے نمودار ہو رہے ہیں۔ سب سے اہم بات تو یہ کہ وہ سارا تحفظ کا ڈھانچہ جو امریکہ نے تیل پیدا کرنے والی عرب بادشاہتوں کے ساتھ تعمیر کیا تھا‘ برباد ہو گیا ہے۔ عرب بادشاہتیں دیکھ رہی ہیں کہ ایرانی حملوں کے سامنے امریکی فوجی اڈے محفوظ ہیں نہ تیل اور گیس کی تنصیبات۔ اس سارے خطے میں تیل اور گیس کی پروڈکشن بند ہو گئی ہے اور تمام تیرہ کے تیرہ امریکی فوجی اڈے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ تحفظ کا ڈھانچہ تو اس مفروضے پر تعمیر تھا کہ تحفظ امریکہ فراہم کرے گا اور تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنا تیل ڈالروں میں بیچیں گے۔ اب تک تیل کی عالمی قیمت کا تعین ڈالروں میں ہوتا ہے۔ لیکن اس جنگ کی وجہ سے وہ سارے تصورات جن کی بنیاد پر وہ ڈھانچہ تعمیر ہوا تھا‘ گھائل ہو گئے ہیں۔
امریکی فوجی اڈے اور تیل کے مقام تو ایک طرف رہے‘ اس خطے کا سارا تیل اور ساری گیس کا ذریعۂ ترسیل ایک پانی کا ٹکڑا ہے جسے آبنائے ہرمز کہتے ہیں۔ مفروضہ تو یہ بھی تھا کہ آبنائے ہرمز بند نہ ہو گی اور اگر کچھ ہوتا ہے تو امریکی فوجی اور نیول طاقت اسے کھلا رکھے گی۔ یہ مفروضہ بھی ہوا میں اُڑ گیا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا تسلط قائم کر لیا ہے اور آمدورفت کا سلسلہ اُس کے حکم کے تابع ہے۔ عرب بادشاہتیں دیکھ رہی ہیں کہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے امریکہ ایک چھوٹی انگلی بھی نہیں اٹھا سکا۔ پہلے یہ دھمکی کہ امریکی بحری جہاز آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزاریں گے۔ یہ دھمکی ہی رہی۔ پھر اتحادیوں سے کہنا کہ کیونکہ اُن کا انحصار خلیج فارس کے تیل پر ہے اُنہیں اپنے زور سے آبنائے ہرمز کھلوانی چاہیے۔ اس سے کھل کر معذوری اور لاچاری کا اعتراف کیا ہو سکتا ہے؟ کہاں اس سارے خطے کے تحفظ کا ٹھیکیدار اور کہاں ایسی بے بسی۔
اس تبدیلی کی وجہ یہ نہیں کہ امریکی اور صہیونی جنگی طاقت میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ اسرائیل کی ایئرفورس اب بھی خطے میں اپنا غلبہ رکھتی ہے۔ ایف 35طیارے اتنے ہی مؤثر ہیں جتنا کہ پہلے تھے۔ امریکہ کی بحری اور فضائی طاقت کی تباہی پھیلانے کی صلاحیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ نئی چیز اور نیا فیکٹر ریاستِ ایران کی ہمت اور استقامت ہے۔ دنیا کی تاریخ کی سخت ترین بمباری کے باوجود ایران ڈٹ کے کھڑا ہے۔ صدر ٹرمپ اور اُن کے وزارتی ہرکارے اسی لیے پریشان ہیں کہ پانچ ہفتے کی یہ بمباری ایران نہ صرف برداشت کر رہا ہے بلکہ اُس کے جوابی حملوں کی زد میں اسرائیل کا ہر شہر اور ہر فوجی ٹھکانہ آیا ہے۔ مزید براں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بند ہونے سے پوری دنیا پر گہرے معاشی اثرات پڑ رہے ہیں۔
ان نتائج کا امریکیوں نے سوچا تھا نہ صہیونیوں نے۔ ان کا خیال تو یہ تھا کہ دو تین روز کے حملوں میں جب ایرانی قیادت کا صفایا ہو گیا ہو گا‘ ایرانی ریاست پر سکتہ طاری ہو جائے گا اور ایران کے عوام بغاوت میں اُٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے میں اسلامی ریاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ان کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے قتل اور ایران پر مسلسل بمباری کے بعد اسلامی ریاست نہ صرف کھڑی رہے گی بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہو گی۔ یہ انقلاب کے کندن میں پک جانے والی قوم کا کردار ہے کہ امریکہ کو ایسے نتائج بھگتنے پڑ رہے ہیں جو پہلے کسی کے تصور میں نہ تھے۔
ہاں اتنا ضرور کہنا چاہیے کہ جنگ کی تیاریاں ہو رہی تھیں اور جنگ کا بگل ابھی بجا نہیں تھا کہ امریکہ میں ایسی آوازیں اُٹھ رہی تھیں کہ ایران پر کسی قسم کا حملہ بے وقوفانہ عمل ہو گا۔ اور اس سے ایسے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں جن سے نمٹنا آسان نہ ہو گا۔ یہ چند آوازیں تھیں اور امریکہ میں موڈ ایسا تھا کہ ان پر کس نے کان دھرنا تھا۔ ویسے بھی ونیزویلا کے ایڈونچر کے بعد جس میں ونیز ویلا کے صدر کو اغوا کرکے امریکہ کی ایک جیل میں ڈال دیا گیا امریکی صدر ایک عجیب گھمنڈ کے عالم میں گرفتار تھے۔ غالب کیفیت وائٹ ہاؤس میں یہی تھی کہ امریکی صدر جو چاہے کر سکتا ہے۔ ایرانی پُرخلوص طریقے سے مذاکرات کے عمل میں شریک تھے اور جیسا کہ عمان کے وزیر خارجہ بدر البو سعیدی دنیا کو بتا چکے ہیں‘ ایرانی مذاکرات میں انتہا کی لچک دکھا رہے تھے اور بات چیت معاہدے کے قریب پہنچ چکی تھی۔ اسی اثنا میں امریکیوں اور صہیونیوں نے ایران پر حملہ کر دیا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ کیا صدر ٹرمپ اور کیا نیم جاہل وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ‘ آئے روز کہتے ہیں ہم نے ایران کی ایئر فورس تباہ کردی‘ نیوی تباہ کر دی‘ میزائل صلاحیت ختم کر دی۔ کوئی پوچھے کہ پھر یہ ڈرون اور میزائل جو اسرائیل پر روزانہ کی بنیاد پر گِر رہے ہیں کہاں سے آ رہے ہیں؟ یہ بھی پوچھا جائے کہ اس جنگ میں آپ اتنے ہی حاکم ثابت ہوئے ہیں تو تلملاہٹ پھر کاہے کی۔ فوجیں بھیجیں اور جزیرۂ خارگ پر قبضہ کر لیں اور وہ نہیں تو کم از کم آبنائے ہرمز پر امریکی فوجیں جائیں دونوں اطراف قبضہ کریں تاکہ سینکڑوں کی تعداد میں تیل سے لدے آئل ٹینکر وہاں سے گزر سکیں اور راتوں رات عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں نیچے آ جائیں۔ لیکن اس جنگ میں ایران کا کردار سامنے رکھتے ہوئے امریکیوں کو پتا ہے کہ ایسا کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ اب تو ناممکن۔ امریکی فوجی ادھر اُدھر اکٹھے ہو رہے ہیں لیکن ایران کا ایک ہی جواب ہے کہ ہم انتظار میں ہیں۔
تیل پیدا کرنے والے عرب بھائیوں کو اب کچھ سوچنا چاہیے۔ امریکہ کی دفاعی ضمانتوں کو دیکھ چکے۔ امریکی اڈوں کو خطے سے نکالنے کا وقت شاید آن پہنچا ہے۔ ایک نیا دفاعی نظام بننا چاہیے جس میں ایران اور تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک برابر کے شریک ہوں۔ تمام مسلم ممالک کیلئے کتنے شرم کا مقام ہے کہ صہیونی اور امریکی ایک مسلم ملک پر بے جا کی جنگ مسلط کریں اور ان کے لبوں سے مذمت کا ایک لفظ بھی نہ نکل سکے۔ حزب اللہ اور حوثیوں سے ہی کچھ سیکھ لیں۔ حیثیت دونوں کی زیادہ نہیں ہمتِ مرداں تو ہے۔ مصلحت کا درس اُمہ نے بہت پڑھ لیا‘ ایران کو دیکھتے کچھ ہمت کا درس بھی پڑھ لیا جائے۔