پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کیلئے چین کا کردار اس کی بہترین سفارت کاری کا شاہکار ہے۔ چینی قیادت کا خاصہ ہے کہ وہ میڈیا کی چکا چوند سے دور رہ کر خاموشی کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے عوامی ہیجان اور میڈیا کی جلد بازی کا یہ عالم ہے کہ مذاکرات کے ہر دور اور ہر جملے کو سرخیوں کی نذر کر دیا جاتا ہے‘ جس کا نتیجہ اکثر تشنہ لبی اور ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ قبل از وقت تشہیر حساس معاملات کو حتمی شکل پانے سے پہلے ہی اندرونی و بیرونی دباؤ کا شکار کر دیتی ہے۔ ماضی میں ہونے والے کئی اہم مذاکرات صرف اس وجہ سے ناکامی سے دوچار ہوئے کیونکہ بعض مذاکرات کاروں کو میڈیا پرآ کر پل پل کی خبر دینے کا شوق تھا۔ اس کے برعکس بیجنگ کی بصیرت کا عالم دیکھیے کہ ارمچی میں کئی روز تک پاکستان اور افغان وفود سر جوڑ کر بیٹھے رہے مگر چین نے حتمی نتیجے تک لب کشائی نہ کرنے کی روایت برقرار رکھی۔ جب تک پاکستان کے دفترِ خارجہ نے باضابطہ طور پر ان مذاکرات کی تصدیق نہیں کی تب تک بیجنگ نے اس سفارتی پیشرفت کو منظرِ عام پر آنے سے روکے رکھا۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی کے بیان کے بعد چینی وزارتِ خارجہ کا بیان سامنے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ چین نتیجہ خیزی پر یقین رکھتا ہے۔ یہ طرزِ عمل ثابت کرتا ہے کہ بڑی طاقتیں الفاظ سے نہیں‘ افعال سے تاریخ رقم کرتی ہیں۔
موجودہ حالات میں چینی سفیر کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات محض ایک روایتی سفارتی ملاقات نہیں تھی۔ اگرچہ اس ملاقات کے اعلامیے میں مشرق وسطیٰ کے سلگتے مسائل اور ایران کی خودمختاری کا ذکر کیا گیا لیکن اس کا اصل تزویراتی ہدف مولانا فضل الرحمن کو پاک افغان مصالحتی عمل میں شاملِ گفتگو رکھنا تھا۔ پاکستان کی طرف سے افغانستان کو فضائی کارروائی کے بعد مولانا فضل الرحمن نے جس پُرامن راستے کی نشاندہی کی تھی وہ دراصل افغان طالبان کے ساتھ ان کے دیرینہ اور گہرے مراسم کا شاخسانہ تھا۔ چینی قیادت جانتی ہے کہ کابل کی قیادت کو قائل کرنے کیلئے جہاں عسکری دباؤ ضروری ہے وہاں مذہبی و سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔ تاہم اس تمام مشق میں سب سے بڑا معمہ عہد و پیماں کی پاسداری کا ہے‘ کیونکہ افغان طالبان کے رویے اور ماضی میں بدعہدی کے تجربات نے چین جیسے برادر ملک کو بھی سوچنے پر مجبور کیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ جب تک پاکستان نے سرحد پار دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر آہنی ضرب نہیں لگائی تھی کابل کی انتظامیہ مذاکرات کی میز کو محض وقت گزاری کا ذریعہ سمجھ رہی تھی۔ پاکستان کے فضائی حملوں نے کابل پر یہ واضح کر دیا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سودے بازی نہیں ہو گی۔ اسی دباؤ کے زیراثر افغان طالبان نے بیجنگ کی طرف رخ کیا تاکہ وہ پاکستان کو مزید کارروائیوں سے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ اس صورتحال نے مذاکرات کی میز پر پاکستان کے مؤقف کو نئی توانائی اور برتری عطا کی ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی خواہش تھی کہ پڑوسی ملک کے ساتھ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے‘ اس مقصد کیلئے دوحہ اور استنبول میں مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے مگر افغان قیادت کی غیرسنجیدگی اور ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے گریز کی پالیسی کی وجہ سے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے تھے۔ اب مذاکرات چونکہ افغانستان کے کہنے پر شروع ہوئے ہیں تو یہ محض دو پڑوسی ممالک کی روایتی بات چیت نہیں بلکہ افغانستان کیلئے اپنی بقا اور عالمی تنہائی سے بچنے کا ایک کٹھن امتحان ہے۔ چین کا اس عمل میں شامل ہونا اس حقیقت کا غماز ہے کہ وہ افغانستان کے عدم استحکام کو اپنے عظیم الشان منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ اور سی پیک کے خلاف بڑا عنصر سمجھتا ہے۔ پاک افغان مذاکرات کی راہ میں حائل سب سے بڑی دیوار اعتماد کا فقدان ہے۔ پاکستان کا مطالبہ دو ٹوک ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دراندازی کا مکمل خاتمہ اور ٹی ٹی پی کے خلاف بے لچک کارروائی۔ محض زبانی جمع خرچ اور لفاظی کا وقت گزر چکا ہے‘ اب اسلام آباد کو ٹھوس ضمانتیں درکار ہیں۔ کیا چین اس معاہدے کا ضامن بنے گا؟ پاکستان اپنے سٹریٹجک پارٹنر کو کسی آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتا لیکن اگر افغان طالبان چین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاکستان کیلئے بیجنگ کی ضمانت کو نظر انداز کرنا ممکن نہ ہو گا۔ اب گیند افغان طالبان کے کورٹ میں ہے‘ انہیں ثابت کرنا ہو گا کہ وہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں کو نبھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ ایک لمحے کے لیے ہم مان لیتے ہیں کہ چین پاک افغان مذاکرات میں ضامن بن جاتا ہے تو چین کی ثالثی محض ایک ثالث کا کردار نہیں ہو گا بلکہ یہ ایک نئے علاقائی نظام کی تشکیل کی کوشش سمجھی جائے گی۔ کابل کیلئے اس کے خلاف جانا آسان نہیں ہو گا۔ بیجنگ کا فلسفہ امن برائے ترقی پر مبنی ہے۔ وہ سنکیانگ کی سلامتی کو افغانستان کے حالات سے مشروط دیکھتا ہے اور وسط ایشیا تک رسائی کیلئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مثالی ہم آہنگی چاہتا ہے۔ اگر ارمچی مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچتے ہیں تو یہ خطے میں بیرونی قوتوں کے اثر و رسوخ کے خاتمے اور ایک مضبوط ایشیائی بلاک کے قیام کی سمت پہلا بڑا قدم ہو گا۔ چین افغانستان کو سی پیک کے ثمرات میں شریک کرنا چاہتا ہے مگر اس کا راستہ اسلام آباد کی سلامتی سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاک افغان تعلقات اس وقت ایسے دوراہے پر ہیں جہاں ایک طرف امن کی روشن شاہراہ ہے اور دوسری طرف بدعہدیوں کی تاریک کھائی۔ چینی بصیرت اور پاکستان کی سیاسی قیادت کی شمولیت نے اس عمل کو ایک وقار عطا کیا ہے۔ یہ مذاکرات محض دو ممالک کی نشست و برخاست نہیں بلکہ خطے کی تقدیر بدلنے کا ایک سنجیدہ عہد نامہ ہیں۔ تاہم افغان تاریخ کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ پہاڑوں کے اس پار امن کا راستہ ہمیشہ سے کٹھن رہا ہے۔ افغان طالبان کیلئے یہ ایک نادر موقع ہے کہ وہ چین کی ضمانت کے ذریعے عالمی برادری میں اپنا کھویا ہوا وقار بحال کریں۔ اگر اس بار بھی ماضی کی طرح وعدہ خلافی ہوئی تو نہ صرف پاکستان بلکہ چین کا اعتماد بھی بری طرح مجروح ہو گا اور افغانستان کیلئے خطے میں کوئی سہارا باقی نہیں رہے گا۔ تاریخ کبھی کسی کو دوسرا موقع اتنی آسانی سے فراہم نہیں کرتی۔ کابل کیلئے یہ موقع ایک کڑے امتحان سے کم نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کابل کی قیادت چند عناصر کو بچانے کیلئے ماضی کی روش پر قائم رہتی ہے یا بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے ایک نئے عہد کاآغاز کرتی ہے۔