سیلاب کی تباہ کاریاں
اگلے روز دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث سیلابی ریلا جھنگ کے 40سے زائد دیہات میں داخل ہوگیا جس سے 48ہزار افراد متاثر ہوئے جبکہ گنڈا سنگھ والا کے قریب دریائے ستلج میںپانی کی سطح بلند ہونے سے بھی قریبی دیہات زیر آب آ گئے۔ گوکہ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کا کام جاری ہے اور متاثرہ علاقوں کے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے لیکن سیلاب کی پیشگی اطلاعات کے باوجود اس کے تدارک کے بروقت اقدامات نہ کرنا پانا حکومتی کی ناقص کارکردگی کا ثبوت ہے۔ گزشتہ برس آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت آئندہ ایسی صورتحال سے محفوظ رہنے کیلئے بروقت اقدامات یقینی بناتی لیکن بدقسمتی سے اس ضمن میں حکومتی سطح پر کوئی اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ بھارت کی طرف سے پانی چھوڑے جانے کے بعد اب نہ صرف دریاؤں کے قریبی علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہو چکا ہے بلکہ حالیہ بارشوں نے شہروں میں حکومتی بدانتظامی کا پول بھی کھول دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ متاثرہ علاقوں میں بلاتاخیر امدادی اقدامات یقینی بنانے کیساتھ ساتھ ممکنہ طور پر متاثرہ علاقوں میں بروقت پیش بندی اقدامات کرے۔ اس ضمن میں دریاؤں کے پشتے مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کے گرد بند بھی باندھے جائیں جن کے سیلاب سے متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔