شاہراہ قراقرم پر دہشت گردی
گلگت سے راولپنڈی جانے والی بس پر گزشتہ شام چلاس کے علاقے میں فائرنگ کے اندوہناک واقعے نے ملک میں امن و امان کی بدترین صورتحال کی جانب توجہ دلائی ہے۔ ملک کے شمالی علاقہ جات جو اپنے سیاحتی مقامات اور پہاڑی چوٹیوں کی وجہ سے ملک اور بیرون ملک عوامی توجہ کا مرکز رہتے ہیں اور پاکستان کے لیے سیاحتی آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں‘ عام طور پر پُر امن علاقے سمجھے جاتے ہیں تاہم قراقرم ہائی وے پر فائرنگ کے واقعات ملک کے اس حصے کے لیے تشویشناک صورتحال پیدا کر دیتے ہیں۔گزشتہ روز کے اس اندوہناک وقوعے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر چلاس نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ اس واقعے میں آٹھ افراد مارے گئے جبکہ زخمی ہونیوالوں کی تعداد 26 بنتی ہے۔ ایک طرف ملک میں عام انتخابات قریب آ رہے ہیں تو دوسری طرف دہشت گردی کی لہر پھر سے شدت اختیار کرنے لگی ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف نومبر میں کل 63دہشت گرد حملوں میں 83افراد جاں بحق ہوئے۔گلگت بلتستان کے علاقے میں بس پر فائرنگ کے اس وقوعے نے اس صورتحال کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ضروری ہے کہ ملک میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ جہاں تک ملک کے شمالی علاقہ جات کا تعلق ہے تو وہاں رسائی کا واحد زمینی راستہ شاہراہ قراقرم ہے۔ اگر اس شاہراہ پر دہشت گردی کے واقعات ہونگے تو سی پیک کے اس اہم روٹ پرکیونکر سکیورٹی کی صورتحال کو یقینی بنایا جاسکتا؟