اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

نئی گندم پالیسی

حکومتِ پنجاب نے گندم پالیسی 2026ء کی منظوری دے دی ہے جس میں گندم کی نئی فصل کی قیمت 3500روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی گئی ہے۔ یہ پالیسی اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں حکومت نے کسانوں سے براہِ راست گندم خریداری یا سرکاری خزانے سے اخراجات کیے بغیر نجی شعبے کی قیادت میں سٹریٹجک گندم ذخائر کی دیکھ بھال‘ ذخیرہ اور فراہمی کا جامع فریم ورک تشکیل دیا ہے۔ یعنی اب حکومت کے بجائے نجی شعبہ گندم کی خریداری‘ کسانوں کی مالی معاونت‘ گندم ذخیرہ کرنے اور صارفین کو گندم کی بروقت فراہمی کے تمام عمل کا ذمہ دار ہو گا۔ حکومت کا کردار صرف قواعد و ضوابط‘ نگرانی اور سٹریٹجک کنٹرول تک محدود رکھا گیا ہے تاکہ مارکیٹ شفاف‘ منظم اور مسابقتی رہے۔

غذائی تحفظ اور مارکیٹ کے استحکام کیلئے یہ ایک مؤثر اور دیرپا حکمت عملی ہے۔ اس سے روایتی سرکاری خریداری کے نظام میں تاخیر کا خاتمہ ہو گا اور کسانوں کو مارکیٹ تک براہِ راست رسائی حاصل ہو گی۔ کسانوں کو گندم کی منصفانہ قیمت ملنے سے ان کا معاشی تحفظ مضبوط ہو گا۔ صارفین کے تحفظ کیلئے بھی پالیسی میں واضح اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس مقصد کیلئے گندم کے سٹریٹجک ذخائر مرحلہ وار مارکیٹ میں جاری کیے جائیں گے تاکہ مصنوعی قلت‘ ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کی روک تھام کی جا سکے ۔ ضروری ہے کہ صوبائی حکومت صرف پالیسی اجرا تک محدود نہ رہے بلکہ اس کا عملی نفاذ یقینی بنائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں