پاکستان کی سفارت کاری کی تحسین
مشرقِ وسطیٰ پر منڈلاتے جنگ کے بادلوں نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ان سنگین حالات نے نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی استحکام کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ بدلتے عالمی حالات پاکستان کی خارجہ پالیسی کیلئے ایک کڑے امتحان کی مانند تھے‘ جہاں ایک طرف اپنے برادر ہمسایہ اسلامی ملک کے خلاف جارحیت کی مذمت ضروری تھی وہیں دوسری جانب عالمی سفارتی تقاضے اور معاشی مفادات کا تحفظ بھی ناگزیر تھا۔ پاکستان نے ان حالات میں سفارتی سطح پر جو حقیقت پسندانہ مؤقف اپنایا ہے‘ اس کی تحسین کی گونج اب عالمی سطح پر بھی سنائی دے رہی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کے اصولی مؤقف پر اظہارِ تشکر کیا ہے۔ سوشل ویب سائٹ پر اردو زبان میں اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ میں پاکستانی حکومت اور عوام کے تعاون اور حمایت پر تہہ دل سے شکر گزار ہوں‘ صہیونی جارحیت کے مقابلے میں پاکستانی حکومت اور عوام نے ایران سے یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا۔

یہ بیان اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی کی تائید ہے‘ جس میں جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی کا راستہ اختیار کیا گیا۔ ایران کا اظہارِ تشکر محض ایک رسمی سفارتی کارروائی نہیں بلکہ اس امر کا اعتراف ہے کہ پاکستان نے تہران کے مؤقف کو نہ صرف سمجھا بلکہ اسے عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر بھی کیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی یہ بڑی کامیابی رہی ہے کہ اس نے خود کو کسی ایک بلاک تک محدود کرنے کے بجائے ایک پُل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر جس طرح جنگ بندی کیلئے تگ و دو کر رہی ہے‘ یہ اس کی علاقائی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان کا عرب ممالک کے ساتھ قریبی رابطہ اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ امتِ مسلمہ کا مؤقف منتشر نہ ہو۔ یہ سفارتکاری اس حقیقت کا بھی اعلان ہے کہ خطے میں کسی بھی جنگ کے اثرات صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے علاقائی استحکام کو ٹھیس پہنچے گی اور پاکستان سمیت عرب ممالک کی معیشت اور سلامتی اس سے براہِ راست متاثر ہو گی۔
حقیقت پسندی کا تقاضا بھی یہی تھا کہ پاکستان کسی ایک پلڑے میں اپنا وزن ڈالنے کے بجائے امن کی مضبوط آواز بنتا۔ حکومت پاکستان کے بروقت اور مؤثر فیصلوں نے ملک کو اُن ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جو بصورتِ دیگر پاکستان کو غیر ضروری تنازع میں دھکیل سکتے تھے۔ یہ توازن برقرار رکھنا آسان نہ تھا لیکن پاکستان کے ٹھوس‘ خاموش مگر مؤثر سفارتی مؤقف نے ثابت کیا کہ کسی دباؤ میں آئے بغیر قومی مفادات اور علاقائی استحکام کو مقدم رکھا جا سکتا ہے۔ اس متوازن خارجہ پالیسی ہی کی بدولت پاکستان کی سرحدیں جنگ کے براہِ راست شعلوں سے محفوظ ہیں‘ تاہم خطرات ابھی ٹلے نہیں ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہو رہی ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ سفارتی آپشنز بھی محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ طاقت کا توازن بگڑنے اور عالمی طاقتوں کی جانبداری نے امن کی کوششوں کو سخت دھچکا پہنچایا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ جنگ بندی کی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے اور عالمی برادری کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دہکنے والی آگ اگر فوری طور پر نہ بجھائی گئی تو اس کی چنگاریاں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔ اس وقت رسمی بیانات سے آگے بڑھ کر ٹھوس عالمی دباؤ کی ضرورت ہے تاکہ بین الاقوامی سرحدوں کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان کو اپنی متوازن پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ایران سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ جنگ کا آغاز تو آسان ہو سکتا ہے مگر اس کا پھیلائو کسی کے کنٹرول میں نہیں رہتا۔