اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

گندم خریداری

حکومتِ پنجاب کی جانب سے گندم کے کاشتکاروں کو مفت باردانہ کی فراہمی کا اعلان خوش آئند ہے۔ صوبائی حکومت نے کاشتکاروں کو 72گھنٹوں کے اندر گندم کی رقم کی ادائیگی کو بھی لازمی قرار دیا ہے۔ حکومت نے رواں برس کسانوں سے براہِ راست گندم خریدنے کے بجائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل متعارف کروایا ہے جس کے تحت گیارہ نجی کمپنیاں کسانوں سے حکومتی نرخوں پر گندم خریدیں گی۔ تاہم ابھی تک حکومت کی مجاز کمپنیوں کی جانب سے خریداری کا عمل شروع نہیں ہو سکا چنانچہ کسان اپنی فصل اونے پونے داموں ڈیلروں کو فروخت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف کسانوں  کیلئے اضطراب کا باعث ہے بلکہ حکومتی وعدوں پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

مہنگائی کے اس دور میں جب ڈیزل‘ کھاد‘ بیج اور دیگر زرعی مداخل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں کسان پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہے‘ ایسے میں اگر کسانوں کو ان کی فصل کا مناسب معاوضہ بھی نہ ملے تو یہ بڑی ناانصافی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر ہر منڈی یا کم از کم ہر تحصیل کی سطح پر سرکاری خریداری مراکز کو فعال کرے تاکہ کاشتکار براہِ راست حکومتی مراکز پر اپنی فصل فروخت کر سکیں۔ اگر یہ مراکز بروقت فعال نہ ہوئے تو مفت باردانہ فراہمی جیسے اقدامات کسی کام کے نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں