اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

لوڈ شیڈنگ

پاور ڈویژن کی جانب سے ملک بھر میں شام پانچ سے رات ایک بجے کے درمیان روزانہ سوا دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق یہ فیصلہ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب‘ مہنگے ایندھن پر انحصار اور ممکنہ طور پر ٹیرف میں بڑے اضافے کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً 60 فیصد بجلی درآمدی تیل اور ایل این جی کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا اثر بجلی کی قیمت اور دستیابی پر پڑ رہا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک کے بیشتر شہروں میں پہلے ہی شہری علاقوں میں چار اور دیہی علاقوں میں چھ گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ ایسے میں پیک آورز کے دوران مزید لوڈ شیڈنگ عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گی۔ ملک کا توانائی کا شعبہ دہائیوں سے مسائل کا شکار ہے۔

ان مسائل کو وقتی فیصلوں سے تو کسی حد تک سنبھالا جاتا رہا لیکن ایک مربوط اور دیرپا اصلاحاتی حکمت عملی کبھی سامنے نہیں آ سکی۔ اگرچہ حکومت نے اب 2030ء تک بجلی کا 60 فیصد حصہ قابلِ تجدید ذرائع‘ خصوصاً سولر انرجی سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس میں بھی پیش رفت سست اور غیر مستقل مزاجی کا شکار ہے۔ حکومت کو بجلی بحران پر مستقل بنیادوں پر قابو پانے کے لیے جلد از جلد قابلِ تجدید توانائی پر منتقلی یقینی بنانا ہو گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں