"AYA" (space) message & send to 7575

فینٹا کا حشر جو خود امریکہ میں ہو رہا ہے

جان سٹیورٹ امریکہ میں مشہور ٹی وی اینکر ہے۔ لیٹ نائٹ شو اس کا ہوتا ہے اور تمسخر اڑاتے ہوئے بڑی سنجیدہ باتیں کہہ جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو وہ شاید بالوں کی نسبت سے اورنج فینٹا کہتا ہے۔ صرف جان سٹیورٹ ہی نہیں کتنے ہی پوڈ کاسٹ ہیں جو ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ اور اُن کی حرکتوں کا باریک بینی سے تجزیہ کر رہے ہیں اور تمسخر بھی اڑا رہے ہیں۔ تقریباً سارے ایسے پوڈ کاسٹ اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ٹرمپ کوئی نارمل انسان نہیں ہیں ۔ اور وہ مثالیں دیتے ہیں‘ وہ جو ایسٹر کی صبح گالی نکال کر اُنہوں نے ایرانیوں سے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کھولو نہیں تو پتا نہیں تمہارا حشر کیا ہو جائے گا۔ اس جیسی باتوں کا ذکر کرکے کتنے ہی سوشل میڈیا پر لوگ ہیں جو پوچھ رہے ہیں کہ کوئی ہوش وحواس میں ہو تو ایسی گفتگو کر سکتا ہے؟
ہم جیسے ملکوں میں شاید ٹرمپ کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہو لیکن امریکہ اور یورپ میں یہ رائے اُبھر رہی ہے کہ یہ صاحب سنجیدگی کے قابل نہیں اور ان سے کوئی سنجیدگی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ اور بات ہے کہ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے صدر اور کمانڈر اِن چیف ہیں‘ ان کے اشارے یا حکم سے ہوائی اور بحری بیڑے حرکت میں آ جاتے ہیں اور جیسا کہ ہم نے ایران کے حوالے سے دیکھا ان کے حکم سے ایک فضول لیکن تباہ کن جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ دماغ سے ہلا ہوا انسان بھی ہو لیکن اُس کے ہاتھ میں بندوق ہو تو اُسے سنجیدگی سے لینا پڑتا ہے اور ایسے آدمی سے ویسے بھی ڈر زیادہ لگتا ہے کہ پاگل پن میں پتا نہیں کیا کچھ کر دے۔ اب یہ جو دو دن پہلے کیتھولک چرچ کے پوپ لیو سے انہوں نے الجھنا شروع کیا اور اُنہیں برا بھلا کہنے لگے‘ صرف اس لیے کہ پوپ لیو نے امن اور شانتی کی بات کی اور یہ کہا کہ ہتھیاروں کے استعمال میں خدا کا نام استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ کوئی بھی دوسرا ہوتا تو پوپ لیو کے ان جملوں پر چپ رہتا لیکن امریکیوں نے بندہ ہی ایسا چنا ہے جسے نہ اپنی زبان نہ جذبات نہ حرکات پر کوئی کنٹرول ہے۔ اور اب تو واضح ہو رہا ہے کہ ٹرمپ کا سب سے بڑا دشمن وہ خود ہیں کیونکہ امریکہ اور دنیا کو تو چھوڑیے اپنے لیے وہ مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کی نفسیاتی کیفیت اور نفسیاتی شخصیت کا سب سے بہترین تجزیہ کہاں ہو رہا ہے؟ ٹرمپ کی سگی بھتیجی میری ٹرمپ ایک کلینکل سائیکلوجسٹ ہے جو نیویارک سے ایک پوڈ کاسٹ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ مہمان کے طور پر بھی بہت جگہوں پر بلائی جاتی ہے۔ وہ کوئی کامیڈی نہیں سنجیدہ بات کرتی ہے اور اپنے چچا کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کہ سُن کے پھر کچھ سمجھ آنے لگتی ہے کہ ٹرمپ کی گفتگو اور جذبات میں کئے گئے اقدامات کے پیچھے کون سی ذہنی کیفیت ہے۔ میری ٹرمپ کہتی ہے کہ میرے چچا کی پرسنیلٹی نارمل نہیں۔ یہ بھی کہتی ہے کہ اپنی ماں کے ساتھ ان کے تعلقات کبھی زیادہ اچھے نہ تھے۔ باپ کی طرف سے بھی انہیں کوئی زیادہ پیار نہیں ملا۔ ٹرمپ کی نرگسیت پر بھی بہت کچھ کہتی ہے کہ ہر صورتحال میں توجہ کا مرکز وہ رہے اور اُن پر روشنی ڈلتی رہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں ڈیمینشیا (dementia) ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان اپنی ہوش اور سمجھ اور یادداشت سے محروم ہوتا جاتا ہے۔ جو انسان اس کا شکار ہو اُس پر یہ بیماری آہستہ آہستہ طاری ہوتی ہے۔ یعنی دھیرے دھیرے یادداشت جا رہی ہوتی ہے۔ میری ٹرمپ کہتی ہے کہ ہمارے دادا اسی ڈیمینشیا کے شکار ہوئے اور 80 سال کی عمر میں جو اُن کی کیفیت ہو گئی اُس کے آثار اب ڈونلڈ ٹرمپ میں نظر آتے جا رہے ہیں۔ میری ٹرمپ کہتی ہے کہ ٹرمپ صدارت کا عہدہ رکھنے کے قابل نہیں رہے۔ یہ بات امریکہ میں اور بھی بہت لوگ کہنا شروع ہو گئے ہیں۔
واویلیاں مارنا کبھی کچھ کہنا کبھی کچھ اور یہ سب اس ذہنی کیفیت کی نشانیاں ہیں۔ ایران پر حملہ بذاتِ خود ایک بغیر سوچا سمجھا قدم تھا‘ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جو خود ایک عجیب نفسیاتی کیفیت میں گرفتار ہے‘ آتا ہے اور ٹرمپ اور اُن کی کابینہ کو آمادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ یہی وقت ہے ایران پر حملہ کرنے کا۔ یعنی ایک قسم کی ورغلانے کی کوشش اُس کی ہوتی ہے اور کمال نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ٹرمپ ورغلایا جاتا ہے اور ایران پر حملے کا خیال اُس کے ذہن میں بیٹھ جاتا ہے اور پھر تقریباً دو ہفتے بعد حملہ ہو جاتا ہے۔ مغربی دنیا کے دہرے معیار تو دیکھے جائیں امریکی اور اسرائیلی کس سادگی سے کہتے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ وہ ایک غیر ذمہ دار ملک ہے اور اُس کے حکمران کٹر اور پاگل قسم کے لوگ ہیں۔ اسرائیل جس کے ہاتھ بے شمار جنگوں اور نہتے لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں وہ بڑا ذمہ دار ملک ہے‘ امریکہ جس کا صدر ذہنی طور پر ہلا ہوا انسان ہے وہ ذمہ دار ملک ہے۔ اور جس ملک کی قیادت نے دہائیوں پہلے فتویٰ جاری کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا وہ غیرذمہ دار ملک ہے۔ دہرے معیار ہوں تو ایسے ہوں۔
جس طرح کے ٹویٹ ٹرمپ صاحب کرتے ہیں کسی اور ملک کا سربراہ کرے تو دنیا اُس کا حقہ پانی بند کر دے۔ لیکن یہ امریکہ ہے اور امریکہ کا صدر جو منہ میں آتا ہے کہہ رہا ہے اور دنیا کو یہ باتیں سننی پڑ رہی ہیں۔ لیکن ایک بات ماننی پڑے گی کہ سارے پاگل پن کا علاج ایران نے خوب کیا ہے۔ نقصان برداشت کیا ہے‘ تباہی برداشت کی ہے لیکن یہ اُس کی چنی ہوئی تباہی نہیں تھی‘ ایران پر یہ جنگ امریکہ اور اسرائیل نے مسلط کی۔ لیکن ایرانی قوم ٹوٹی نہیں‘ گھٹنے اُس نے نہیں ٹیکے جیسا کہ امریکی اور اسرائیلی توقع کر رہے تھے‘ ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جوابی حملے ایسے کیے کہ امریکہ کی بے بسی کا عالم سامنے آ گیا۔ امریکہ کو اتنا تو سوچنا چاہیے کہ بات جب پاکستانی ثالثی تک پہنچ جائے تو پتا نہیں چلتا کہ کس لاچاری کی کیفیت میں امریکہ اپنے آپ کو لے آیا ہے؟
ایرانیوں کو اپنے تحفظ کی خاطر ایٹم بم بنا لینا چاہیے۔ امریکیوں اور اسرائیلیوں کا یہی ایک علاج ہے۔ جاننے والے لوگ کہتے ہیں کہ جتنا تیار یورینیم ایران کے پاس ہے وہ آٹھ نو بموں کے لیے کافی ہے۔ تیار کر لیں تاکہ اسرائیل کا بخار تھوڑا کم ہو۔ مغربی دنیا کے یہ دہرے معیار بھی ملاحظہ ہوں کہ اسرائیل کے پاس جو تقریباً 150‘ 200 ایٹمی ہتھیار ہیں وہ بات بالکل جائز ہے لیکن ایران کو یورینیم افزودگی کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ ایران ایٹمی صلاحیت حاصل کر لیتا تو یہ دہرے معیار بھی ٹھنڈے پڑ جاتے۔
اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہم نے اورنج فینٹا کی نفسیاتی کیفیت کو خوب سمجھا اور ایسا مکھن لگایا کہ وہ موم ہوا ۔ اب سمجھ آتی ہے کہ نوبیل امن انعام کیلئے نامزد کیا تھا وہ تیر بھی بالکل نشانے پر لگا۔ یہ پاکستان کا اعزاز ہے کہ مذاکرات میں ثالث بھی رہا اورسعودی عرب کا دفاعی معاون بھی ثابت ہو رہا ہے۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں