اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

اکنامک آئوٹ لُک اور معاشی چیلنجز

آئی ایم ایف کی ورلڈ اکنامک آؤٹ لُک رپورٹ 2026ء میں عالمی اور ملکی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے امیدوں سے زیادہ خدشات اور چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی معیشت بالعموم اور پاکستان کی معیشت بالخصوص نازک موڑ پر ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور علاقائی تنازعات اس وقت عالمی معاشی ترقی کیلئے سب سے بڑا چیلنج بن کر ابھرے ہیں اور ان کی شدت اور مدت ہی مستقبل کی اقتصادی سمت کا تعین کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کیلئے معاشی شرحِ نمو میں سستی‘ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ اور مہنگائی کی لہر کے سر اٹھانے کے خدشات موجود ہیں۔ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نمو‘ جس کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا تھا‘ 3.6 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ یہ فرق صنعت‘ زراعت اور سروسز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی کمی اور بلند شرح سود کے باعث کاروباری مشکلات کی عکاسی کر رہا ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے معاشی سمت درست ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے مگر آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ چیلنجز بدستور برقرار ہیں اور کسی قسم کی کوتاہی معاشی دباؤ میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ رپورٹ کا ایک تشویشناک پہلو مہنگائی کا تخمینہ ہے۔

گزشتہ برس مہنگائی کی شرح 4.5 فیصد تک رہی تھی‘ جسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا مگر اب صورتحال یکسر بدلتی نظر آ رہی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ اگلے مالی سال میں مہنگائی کی شرح 8.4 فیصد تک جا سکتی ہے۔ مہنگائی میں مسلسل اضافہ نہ صرف براہِ راست عام آدمی کی قوتِ خرید کو متاثر کرے گا بلکہ سماجی بے چینی کا بھی سبب بنے گا۔ اگرچہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس اضافے کی بڑی وجہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں عدم استحکام اور توانائی کی سپلائی چین میں خلل جیسی صورتحال ہے مگر داخلی انتظامی ڈھانچے کی کمزوریاں اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ معاشی ماہرین پہلے ہی خبردار کر رہے کہ مہنگائی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنیوالے طبقے کیلئے زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔ آؤٹ لک رپورٹ کے خوش کن پہلو کی بات کی جائے تو بیروزگاری میں کمی کا عندیہ ایک مثبت پہلو ہے۔ بیروزگاری کی شرح جو 7.1 فیصد تھی‘ رواں سال کم ہو کر 6.9 فیصد اور آئندہ سال مزید کم ہو کر 6.5 فیصد تک آنے کی توقع ہے۔

تاہم اس بہتری کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں وہ تسلسل لایا جائے جو نوجوان نسل کو مارکیٹ میں کھپا سکے۔ بیروزگاری میں کمی کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا بڑھنا ایک بڑا خطرہ ہے‘ جو ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھانے اور روپے کی قدر میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے سخت مالیاتی ڈسپلن کی ضرورت ہے‘ ورنہ خسارے کا یہ جن معیشت کو ایک نئے بحران سے دوچار کر سکتا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ کہنا کہ پچھلے تین چار سال میں پاکستان سے 100ارب ڈالر باہر گئے ہیں‘ ملکی معیشت کے حجم کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کا یہ کہنا بجا ہے کہ اگر 30فیصد ہی پیسہ واپس آ جائے تو معیشت مستحکم ہو سکتی۔

پیسہ واپس لانے کی اپیل اپنی جگہ تاہم اگر وقتی اہداف تک محدود رہنے کے بجائے حکومت طویل مدتی اصلاحات پر توجہ دے‘ معاشی ماحول کو کاروبار دوست بنائے‘ پالیسی سقم دور کر لے تو داخلی سطح پر انتظامی بہتری اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کی صورت میں معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے بچانے کیلئے حفاظتی دیواریں کھڑی کی جا سکتی ہیں۔ملکی معیشت کی بنیادوں کو ہی درست کر لیا جائے تو اس میں اتنی وسعت اور لچک ہے کہ یہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کر سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں