ایران اور امریکہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ دوبارہ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے راضی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ پہلا رائونڈ تقریباً کامیاب ہو گیا تھا مگر آخری لمحات میں سب کچھ بگڑ گیا جب امریکی نائب صدر نے اچانک ایک آدھ سخت شرط رکھ دی۔ اس دوران امریکی نائب صدر مسلسل صدر ٹرمپ کے ساتھ رابطے میں رہے۔ ٹرمپ نے آخر پر ایسی شرط رکھ دی جو شاید فوری طور پر ایرانیوں کیلئے قابلِ قبول نہ تھی۔
مجھے مذاکرات کے اس پہلے رائونڈ کی ناکامی پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔ جب پچھلے ہفتے جنگ بندی کے بعد اعلان ہوا کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ مذاکرات ہوں گے تو 9 اپریل کو میں نے اپنے پروگرام میں کہا تھاکہ اگرچہ بہت جوش وخروش دکھایا جا رہا ہے کہ جیسے ابھی دونوں فریق ملیں گے‘ 47 سال بعد آمنے سامنے بیٹھیں گے اور چائے کافی پر مسئلہ حل ہو جائے گا۔ میرا تجزیہ تھا کہ یہ بہت پرانی دشمنی ہے‘ اتنی جلدی یا ایک آدھ ملاقات میں ختم نہیں ہو گی۔ میجر عامر اکثر اپنے والد صاحب کی بات کا حوالہ دیتے ہیں کہ جو دوستی تیس سال میں قائم ہوئی ہو‘ اسے ٹوٹنے کیلئے بھی تیس سال لگنے چاہئیں۔ امریکہ ایران دشمنی 47 برس سے چل رہی ہے‘ وہ بھلا چند گھنٹوں میں کسی ڈیل پر کیسے ختم ہو جاتی؟ اس میں زیادہ مشکل یہ تھی کہ ماضی میں جب امریکی صدور ایران سے مذاکرات کرتے تھے تو دونوں ملکوں کے مابین جنگ نہیں لڑی گئی تھی۔ اب کی دفعہ مختلف حالات تھے۔ امریکیوں نے باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا اور چالیس دن تک ایران پر خوفناک بمباری ہوتی رہی۔ ایک امریکی میزائل حملے میں سکول کی 168 معصوم بچیاں اور ان کی ٹیچرز شہید ہو گئیں۔ سمندر میں 87 ایرانی سیلرز بھارت میں فوجی مشقوں سے واپسی پر نشانہ بنائے گئے۔ ڈھائی ہزار سے زائد ایرانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہزاروں حملوں میں بڑے پیمانے پر ایران میں تباہی ہوئی۔ چوٹی کی ایرانی قیادت ختم کر دی گئی۔ لہٰذا اب جب امریکہ ایران مذاکرات ہو رہے تھے تو اتنا آسان نہیں تھا کہ ایک ہی اجلاس میں سب کچھ طے کر کے ہاتھ ملاتے‘ باہر میڈیا کے سامنے مسکراتے ہوئے اعلان کرتے کہ معاہدہ ہوگیا ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت کو وقت درکار ہے۔ انہیں اپنی اپنی قوم کو تیار کرنا ہے کہ جو ڈیل وہ کر رہے ہیں وہ ان کی ہار نہیں بلکہ جیت ہے۔صدر ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ جنگ جیت چکے ہیں۔ ایران کہہ رہا ہے کہ ہم نے امریکہ کو گھٹنوں پر لا بٹھایا ہے‘ لہٰذا وہ ہم سے مذاکرات کر کے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ جیت چکا ہے تو پھر معاہدہ کس بات کا؟ اس وقت جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ ایران کہہ رہا ہے کہ ہم جنگ جیت گئے ہیں جبکہ امریکہ کہہ رہا ہے کہ ہم جیت گئے ہیں۔ اگر دونوں جیت گئے ہیں تو پھر ہارا کون ہے؟ شاید دونوں کے انہی دعوئوں کی وجہ سے مذاکرات میں بریک تھرو نہ ہو سکا۔ ڈیل تو ایک فاتح اور ایک مفتوح میں ہوتی ہے‘ دو فاتحین کے مابین بھلا کیسے مذاکرات یا کیسا بریک تھرو؟ اب انہیں کون راضی کرے کہ پہلے ہار جیت کا فیصلہ کر لیں پھر مذاکرات بھی کامیاب ہو جائیں گے۔ اس وقت برابری پر بات ہو رہی ہے اور برابری پر ہمیشہ ملکوں کی اَنا آڑے آ جاتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو جھکانا چاہتے ہیں۔ مذاکرات کچھ لو اور کچھ دو پر ہی کامیاب ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کو ڈکٹیٹ کرانے سے نہیں۔
اگر ایران نیوکلیئر پروگرام‘ آبنائے ہرمز اور پراکسیز سے متعلق امریکی شرائط مان لیتا ہے تو امریکہ ایران کے فریز کیے گئے چھ ارب ڈالر قطر سے ریلیز کرا سکتا ہے‘ ایران پر عالمی پابندیاں ختم کرا سکتا ہے‘ دنیا بھر سے تجارت شروع ہو سکتی ہے۔ ایران دوبارہ تعمیر ہو سکتا ہے۔ بظاہر یہ کہنا بڑا آسان لگ رہا ہے لیکن اس مسئلے کی راہ میں ایک ہی رکاوٹ ہے: انسانی اَنا۔ ایران اور امریکہ نے ایک دوسرے کو تو شکست دے دی ہے لیکن اب اپنی پہاڑ جتنی انا کا کیا کریں۔ اسے اب کون فتح کرے گا؟مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ دونوں فریق اپنے 47 سالہ پرانے مؤقف سے ہٹ کر معاہدہ کرتے ہیں تو دونوں کو خطرہ ہے کہ ان کے عوام ان پر شدید سوالات اٹھائیں گے ۔ یوں دونوں ممالک کی قیادت یا مذاکرات کار پھنس گئے ہیں کہ ہم کیسے اپنی قوم کو راضی کریں کہ ہم نے جو جنگ میدان میں جیتی تھی‘ وہ میز پر نہیں ہار دی۔
جس دلدل میں اس وقت امریکی اور ایرانی لیڈرشپ پھنس گئی ہے وہ انہوں نے 47 سالوں میں خود بڑی محنت سے تیار کی ہے۔ جب آپ مسلسل ایرانی عوام کو کہتے رہیں کہ امریکہ شیطان ہے اور امریکہ مردہ باد تو کیسے آج ان کے ساتھ کی گئی ڈیل پر اپنی قوم کو راضی کر سکیں گے اور وہ اپنا اتنا نقصان کرانے کے بعد مطمئن بھی ہو جائے؟ اسی طرح امریکہ اور اسرائیل نے ان تمام برسوں میں یہی کچھ اپنے عوام کو بتایا ہے کہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور پوری دنیا میں وہ اپنی پراکسی تنظیموں کے ذریعے تشدد اور جنگوں کو ہوا دے رہا ہے لہٰذا اس رجیم کا خاتمہ ضروری ہے۔ رجیم اپنی جگہ قائم ہے اور وہ اُسی کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں‘ جس کے خاتمے کا مشن لے کر وہ تہران پر حملہ آور ہوئے تھے۔ امریکی عوام اس بات پر غصے میں ہیں کہ امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلا گیا جو ان کی جنگ نہیں تھی۔
برسوں تک اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کوشش کرتا رہا‘ جمی کارٹر سے ریگن‘ سینئر بش سے کلنٹن‘ جارج ڈبلیو بش سے اوباما تک کسی ایک کو تو راضی کر سکے کہ امریکہ ایران پر حملہ کر دے۔ سب کو علم تھا کہ امریکی اسرائیل خصوصاً نیتن یاہو کی باتوں میں نہیں آئیں گے۔ یہی بات گزشتہ روز سابق سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن نے امریکہ میں ایک مارننگ شو میں کہی کہ کتنی دفعہ نیتن یاہو نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ ایران پر حملہ کریں لیکن ہر بار ہم ان کے چکر سے نکل گئے۔ صدر ٹرمپ کے بارے اسرائیل کا خیال تھا انہیں گھیرا جا سکتا ہے اور پھر انہوں نے ٹرمپ کو گھیر کر امریکہ کو پھنسوا دیا۔ اب پاکستان‘ خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی کوششیں اپنی جگہ لیکن ایران اور امریکہ اپنی انا کی جنگ میں پھنس چکے ہیں۔ دونوں مسئلے کا حل بھی چاہتے ہیں لیکن اپنی انا اور برتری کے ساتھ۔
اگر دونوں ملک دوبارہ پاکستان آنے سے پہلے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کی شہرہ آفاق کتاب Profiles in courage پڑھ لیں تو شاید اس دفعہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں۔ اس کتاب کو پڑھ کر اندازہ ہو گا کہ لیڈرشپ کیا ہوتی ہے۔ وہ کتنے خطرات یا اپنے سیاسی کیریئر کو دائو پر لگا کر بھی وہی غیر مقبول فیصلے کرتی ہے جو اس کے خیال میں ملک یا اس کی قوم کیلئے ناگزیر ہوں۔ اس کتاب میں کینیڈی نے اُن آٹھ امریکی سینیٹرز کی سیاسی کہانیاں لکھی ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی جماعتوں‘ ڈونرز اور ووٹرز کے خلاف جا کر سینیٹ میں ووٹ ڈالا‘ جس سے ان کے سیاسی کیریئر تباہ ہو گئے۔ وہ دوبارہ کبھی سینیٹرز نہیں بن سکے لیکن ان کا خیال تھا کہ انہیں اپنے سیاسی ووٹ بینک یا سیاسی وفاداری سے زیادہ یہ دیکھنا ہے کہ امریکہ کا مفاد کس میں ہے۔ انہیں موت کی دھمکیاں ملیں‘ ان پر حملے ہوئے‘ نفرت انگیز مہمات چلائی گئیں لیکن انہوں نے وہ کیا جو اُن کے خیال میں امریکہ کے لیے بہتر تھا۔ پھر کئی دہائیوں بعد وہ دن آیا جب کینیڈی جیسے امریکی صدر نے ان کی جرأت اور سمجھداری کو سلام کیا۔ ایرانی اور امریکی قیادت کو بھی ان آٹھ سینیٹرز کی کہانیاں پڑھ کر‘ اَنا میں پڑے بغیر اپنے ملک اور عوام کو جنگوں سے نکالنا ہے۔ اس میں امریکہ کا بھلا ہے اور اس سے زیادہ ایران کا بھلا‘ جو 47 سال سے ایک طرح سے عالمی قید کا سامنا کر رہا ہے۔ ایرانیوں کو نارمل زندگی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔