خسارے کی روایت
سرکاری ملکیتی کاروباری اداروں کے خسارے میں مالی سال 2024-25ء کے دوران 300فیصد اضافہ حیران کن ہے۔ یہ انکشاف اگلے روز وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی گئی ایک رپورٹ سے ہوا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران ایس او ای سیکٹر کا مجموعی خسارہ 122.9 ارب روپے تک پہنچ گیا جو ایک سال پہلے 30.6ارب روپے تھا۔گزشتہ مالی سال کے دوران سرکاری کمپنیوں کی آمدنی میں بھی 1400ارب روپے کی کمی آئی جبکہ منافع بخش سرکاری اداروں کے منافع میں بھی 13 فیصد کمی آئی جو کہ مالی سال2024 ء کے 821 ارب روپے کے مقابلے میں مالی سال 2025 ء میں710 ارب روپے رہا۔حکومت کی جانب سے اصلاحات اور سرکاری کاروباری اداروں پر غیرمعمولی اخراجات کے باوجود ان اداروں میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت کا فقدان افسوسناک ہے ۔ حکومت کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران ایس او ای سیکٹر کو 2100ارب روپے فراہم کیے گئے‘ اس کے باوجود خسارہ300 فیصد بڑھ گیا۔ ایسا کیوں ہوا؟

یہ صورتحال سرکاری کاروباری اداروں کے ڈھانچے میں پائے جانیوالے نقائص اور ان اداروں کو چلانے کے طریقہ کار کی کمزوریوں کو واضح کرتی ہے ۔سرکاری ملکیت کے متعدد ادارے جنہیں اصولی طور پر منافع بخش ہونا چاہیے کہ انہی شعبوں کے نجی ادارے منافع بخش ہیں ‘ بدستور خسارے میں ہیں اور یہ خسارہ بڑھتا جارہا ہے۔ حکومت ہر سال غیر معمولی رقم ان اداروں پر خرچ کرتی ہے‘ بظاہر اس دعوے کیساتھ کہ عوام کو سستی خدمات مہیا کی جارہی ہیں مگر حقیقت میں ان ایس او ایز کے اندھے کنوئیں میں سالانہ سینکڑوں ‘ ہزاروں ارب روپے ڈالنے کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ان اداروں کی خدمات اکثر صورتوں میں نجی شعبوں سے بھی مہنگی ہیں۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں اسکی ایک مثال ہے ۔ اس طرح ٹیلی کمیونیکیشن اور ڈاک کے سرکاری ادارو ں کی خدمات انہی شعبوں کے نجی اداروں سے کسی طرح بھی کم قیمت نہیں‘ اگرچہ دو نوں کے معیار میں بہت بڑا فرق ہے۔
گزشتہ مالی سال کی صورتحال سرکاری کاروباری اداروں کے معاملات پر از سر نو غور کی دعوت دیتی ہے۔ایک سال کے دوران خسارے میں 300فیصد اضافہ ناقابلِ تصور ہے۔ یہ حکومت کیلئے ایک بڑی ناکامی بھی ہے مگر اس سے اصلاح احوال کی ایک راہ بھی نکالی جاسکتی ہے۔ خسارے کی اس روایت کو کیونکر قابو کرنا ہے‘ ابھی وقت ہے کہ اس پر غورو خوض کیا جائے اور جو کچھ کیا جانا ضروری ہے کیا جائے۔ سب سے اہم قدم ان اداروں میں بدعنوانی کا خاتمہ اور وسائل کا بہترین مقاصد کیلئے استعمال ہونا چاہیے۔ سرکاری کاروباری اداروں کی ناکامی کی بڑی وجہ یہی دو اسباب ہیں کہ ایک تو بدعنوانی بہت ہے اور دوسرا صلاحیتوں اور وسائل سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔ ان اداروں کو جدید وسائل اور سہولتوں سے آراستہ نہ کیا جانا بھی ان کی پسماندگی اور کاروباری ناکامی کی بڑی وجہ ہے۔
یوٹیلیٹی سٹورز کی مثال لے لیں ‘ گھریلو اشیائے ضروریہ کی پرچون فروشی کا شعبہ ہر لحاظ سے منافع بخش ہے‘ اس وجہ سے چین سٹورز کا وجود سلامت ہے ‘ مگر ہمارا یوٹیلٹی سٹورز کا ادارہ منافع تو خیر کیا کماتا اپنے اخراجات پورے کرنے کے قابل بھی نہ ہو سکا حالانکہ اس ادارے سے عوام کو مفت سامان نہیں ملتا تھا‘ زیادہ تر اشیا مارکیٹ ریٹ پر ہی فروخت کی جاتی تھیں ۔سرکاری ملکیتی کاروباری اداروں کے مسلسل خساروں کو دیکھا جائے تو ان اداروں کا واحد حل ان کی شفاف نجکاری ہی میں نظر آتا ہے‘ کیونکہ چند اداروں کو بچانے کیلئے ہر سال سینکڑوں ارب روپے کی مدد قومی خزانے سے مہیا کرنے میں کوئی عقلمندی نہیں جبکہ ان اداروں سے عوام کو کوئی خاص فائدہ بھی نہیں مل رہا۔مگر شفاف نجکاری کی منزل سے پہلے ان اداروں کی اصلاح اور ان سے ناکامی اور خساروں کے دھبے دور کرنا بھی ضروری ہے۔