ارتکازِ اختیارات کے اثرات
اختیارات کا ارتکاز ملکِ عزیز کے دیرینہ اور پیچیدہ مسائل کی بڑی وجوہ میں سے ہے ۔ جدید دنیا کی ترقی اور توازن کی ایک بڑی وجہ اختیارات اور ذمہ داریوں کی تقسیم ہے ۔ ترقی پذیر ریاستوں نے بھی اس راز کو پا لیا ہے؛ چنانچہ وہاں بھی اختیارات کی تقسیم میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی جاتی۔ سیاسی جماعتیں اور حکومتی مراکز اپنے اختیارات چھوٹے صوبوں اور شہری ومقامی حکومتوں کے حوالے کرتے ہیں‘ مگر ہمارے ہاں معاملہ مختلف ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں ڈیولوشن سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی بی اے میاں عامر محمود کا کہنا تھاکہ ہمارے ہاں ادارے کمزور ہیں اور افراد طاقتور۔ حقیقت یہی ہے کہ انفرادی سطح پر اختیارات کو مٹھی میں بند رکھنے کی دُھن صوبوں کی انتظامی تقسیم کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتی ہے اور بلدیاتی نظام کو بھی پھلنے پھولنے نہیں دیتی۔ آرٹیکل 140 اے کی رُو سے بلدیاتی انتخابات آئینی تقاضا ہیں مگر ہمارے ہاں کسی سیاسی جماعت نے اس آئینی حکم کی من وعن تعمیل نہیں کی۔

سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے زور دیے جانے کے بعد اگر طوعاً وکرہاً انتخابات کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا تو اختیارات اور وسائل کی فراہمی میں کھنڈت ڈال دی۔ اس طرح دنیا بھر میں عوامی اور شہری مسائل کے حل کا مانا ہوا نظا م ہمارے ہاں مؤثر کارکردگی نہ دکھا سکا۔ اختیارات پر گرفت کی سوچ کے نقصان جا بجا اور انگنت ہیں۔ صحت کی صورتحال کو دیکھ لیں ‘ بڑے سرکاری ہسپتال صوبائی دارالحکومتوں اور دوسرے بڑے شہروں میں ہیں جبکہ آبادی کا پھیلاؤ دیہی سطح پر زیادہ ہے؛ چنانچہ دور دراز کے علاقوں سے مجبور لوگوں کو بصد مشکل بڑے شہروں کی طرف علاج کیلئے سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہی صورتحال تعلیمی سہولتوں کی ہے۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں دو ایسے بڑے اسباب ہیں جنہوں نے دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب نقل مکانی کے رجحان میں غیر معمولی تیزی سے اضافہ کیا ہے جس کے نتیجے میں شہری آبادی اور مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے‘ اور مستحکم شہری حکومتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔
صورتحال کس قدر گمبھیر ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ہمارے ہاں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکول کی تعلیم سے محروم ہیں۔ یہ دنیا میں آؤٹ آف سکول بچوں کی سب سے بڑی تعداد ہے جبکہ44 فیصد بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں۔ یہ ڈھائی کروڑ جو تعلیم سے محروم ہیں جب جوان ہوں گے تو دنیا ترقی کی مزید کئی منزلیں طے کر چکی ہو گی۔ ہمارے تعلیم سے محروم ان بچوں کا مستقبل کیا ہوگا‘ آج کی حکومتوں کو اس بارے سوچنا ہوگا کیونکہ حکومتیں اس تشویشناک صورتحال کی ذمہ داری سے خود کو بری قرار نہیں دے سکتیں۔ اسی طرح خوراک کی کمی کے شکار بچوں کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتو ں کا مسئلہ بھی سنجیدہ مسئلہ ہے کیونکہ صحت کے عالمی ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ سٹنٹنگ دماغ کی نشوونما کو نمایاں طور پر متاثر کرتی ہے۔
اس سے دماغی خلیات کی تعداد اور حجم کم اور عصبی نظام کمزور رہ جاتا ہے اور یادداشت‘ توجہ اور مسائل کو حل کرنے جیسے علمی افعال میں دیرپا مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کم آئی کیو اور ناقص ذہنی کارکردگی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں ۔گلوبل ہنگر انڈیکس میں بھی ہم تشویشناک درجے میں ہیں۔ یہ مسائل قومی مستقبل کے حوالے سے فکر مندی کا سبب ہیں اور ان کے حل کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ یہ غیر معمولی مسائل غیر معمولی حل کا تقاضا کرتے ہیں جو کہ موجودہ صوبائی سیٹ اَپ میں ممکن نظر نہیں آتا۔ صوبوں کی انتظامی تقسیم کے جائز اور منطقی مطالبے کو ٹالنے کا مطلب مسائل میں کئی گنا اضافہ اور وسائل کے بدستور ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔ ہمیں دنیا کے تجربے کو ہی دیکھ لینا چاہیے۔ اگرچہ صوبوں کے دیوہیکل حجم اتنے ہی ضروری ہوتے تو دنیا بھر کے ممالک خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک کیوں چھوٹے انتظامی یونٹس اور اختیارات کی تقسیم کے اصول پر اس سختی سے کاربند ہیں۔