ماحولیاتی سرمایہ کاری کی ضرورت
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے نے 2025ء کو دنیا کی تاریخ کا تیسرا گرم ترین سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2026ء بھی زیادہ مختلف نہیں ہو گا۔ یعنی ماحولیاتی چیلنجز برقرار رہیں گے اور ہر ملک کو داخلی سطح پر ماحولیاتی اقدامات کو ایک مستقل پالیسی بنانا ہو گا۔ عالمی سطح پر ہونیوالے کاربن اخراج میں‘ جو ماحولیات کیلئے زہر قاتل ہے‘ پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن پاکستان دنیا میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں سر فہرست ہے۔ ایک معاشی ادارے کے مطابق پاکستان کو گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی‘ قابلِ تجدید توانائی پر منتقلی اور ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں ماحولیاتی بہتری کیلئے 2035ء تک تقریباً 566ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے مگر موجودہ معاشی حالات میں اتنی زیادہ سرمایہ کاری کیسے ممکن ہو گی‘ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کیلئے ہمیں دہرے اقدامات کی ضرورت ہے۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک‘ گرین کلائمیٹ فنڈ اور ایڈاپٹیشن فنڈ جیسے عالمی مالیاتی اداروںپر بطورِ خاص توجہ مرکوز کرنی چاہیے‘ وہیں پر داخلی سطح پر بھی ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ کو ترقیاتی منصوبوں کا لازمی حصہ قرار دینا چاہیے۔ کاربن کے اخراج میں کمی کیلئے الیکٹرک گاڑیوں اور صنعتوں میں معیاری ایندھن کے استعمال کو فروغ دینا چاہیے اور شجر کاری پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔