"RBC" (space) message & send to 7575

جنگل کہانی

آصف محمود صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں‘ اتنا تو ضرور کہنے کی اجازت دی جائے کہ ایک صاحبِ اسلوب‘ فطرت شناس‘ تاریخی ورثہ اور قدرتی جنگلات کی حفاظت کی تڑپ ان کے دل میں گھر بنا چکی ہے۔ جس خوب صورت انداز میں انہوں نے اسلام آباد کی تاریخی گم گشتہ بستیوں‘ تہذیبوں اور اب ہماری زندگیوں میں‘ ہماری نظروں کے سامنے فطری دولت سے مالا مال شہر کے جنگلات کے اجڑنے کی داستان اپنی روح کے قلم سے تحریر کی ہے‘ اس سے ہمارے حوصلے کچھ بڑھے ہیں۔ آخر کب تک ملک کے ہر کونے اور علاقے سے یہاں آباد شہری خموشی سے اسلام آباد کی تباہی کا نظارہ کرتے رہیں گے۔ جہاں یہ کتاب ایک تاریخ‘ ایک نوحہ اور فطرت سے محبت کی علامت ہے‘ وہاں یہ ہم سب کے لیے بیداری کی بلند آواز بھی ہے۔ دنیا کے مرکزی شہروں میں یہ واحد شہر ہے جہاں اس کی منصوبہ بندی‘ زمین کے استعمال‘ نام نہاد ترقیاتی منصوبوں‘ پارکوں اور نئی سرکاری عمارتوں کی تعمیر کے سلسلے میں مقامی آبادی سے کوئی مشاورت نہیں کرتا۔ یہاں کبھی اگر کوئی مقامی حکومت قائم بھی ہوئی تو وہ صرف برسرِ اقتدار پارٹی کی خدمت گزاری کا فریضہ انجام دیتی رہی۔ ہماری دو بڑی جماعتیں‘ اور ان کی صفوں سے نکل کر بننے والی سب حکومتیں اسلام آباد کو ایک سونے کی کان کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں۔ یہ تو معلوم ہے کہ سونے کی کان سے سونا نکلتا ہے‘ اور یہ کتنا مہنگا ہے۔ یہاں سونے کی کانیں دیکھنا مقصود ہو تو نئی ابھرتی ہوئی کثیر منزلہ عمارتوں کے سلسلے کو دیکھ لیں۔ جناح ایونیو کے ساتھ ساتھ‘ اور وہ جو ایک عمارت پہلے ہوٹل کے طور پر اور پھر چپکے چپکے تمام قانونی کارروائیوں کے بعد شاہراہ دستور کے ایک سرے پر جنگل کے اندر تعمیر ہوئی‘ کون سا سیاسی گھرانہ اور بڑا سیاست باز ہے جس کا وہاں کوئی فلیٹ نہیں۔
دو بڑی سیاسی جماعتوں اور یہاں تک کہ ایک عبوری حکومت کے مرحوم وزیراعظم نے بھی‘ مجموعی طور پر سب نے ہزاروں کمرشل اور رہائشی پلاٹس اپنے ہر نوع کے قریبی افراد میں تقسیم کیے۔ اس سے بڑا ظلم اس تمام علاقے کے ساتھ ایک عوامی پارٹی کی حکومت نے کیا۔ اگرچہ عوامی تو سبھی ہیں‘ لیکن نام میں کیا رکھا ہے۔ اُس نے زرعی علاقوں کو بھی بیک جنبش قلم رہائشی کالونیوں میں تبدیل کرنے کی اجازت دے دی۔ اب یہ وہ اسلام آباد نہیں جس کے خوابوں میں آصف محمود صاحب یہاں آ کر بسے تھے‘ یا جسے ہم نے 1973ء کے آخری مہینوں میں پہلی بار دیکھا تھا اور پھر ہم یہیں کے ہو کر رہ گئے تھے۔
'جنگل کہانی‘ پڑھی تو ایسا لگا کہ اُن تمام جنگلات کے درمیان میں سے ایک مرتبہ پھر گزر رہا ہوں اور مارگلہ کی پہاڑیوں میں ایک دفعہ پھر اپنے مرحوم دوست‘ مرزا یاسین صاحب کے ساتھ پورا دن سفر میں ہوں۔ وہ چلے گئے تو پھر اُدھر کو جانے کا ارادہ کم ہی کیا۔ تقریباً نصف صدی پہلے میرے ساتھ مارگلہ کی پہاڑیوں اور شکر پڑیاں کے جنگل کی سیر کے لیے پروفیسر افتخار حیدر ملک ہوا کرتے تھے۔ شاید ہی کوئی پہاڑی اور جنگل اسلام آباد کا ایسا تھا جس میں سے ہم برسہا برس نہ گزرے ہوں۔ جب یکے بعد دیگرے حکومتوں نے اس کو اجاڑ کرنا شروع کیا تو ہمارا دل بھی اس کے ساتھ اجڑ گیا۔ شکر پڑیاں میں تب سوائے لوک ورثہ کی عمارت کے کوئی اور تعمیرات نہ تھیں‘ اور ملحقہ پہاڑی جو اَب ایک بازار میں تبدیل کر دی گئی ہے‘ یہاں چائے کا ایک ڈھابہ تک نہ تھا۔ اب ہر طرف کوئی احاطہ ہے اور درمیان میں کچھ قدرتی درخت‘ جو ترقیاتی ادارے نے اپنی مرضی کا کلہاڑا چلا کر ختم کر دیے ہیں۔
فاطمہ جناح پارک آج سے تیس سال قبل جانا شروع کیا۔ ابھی دیوار بھی نہیں بنی تھی‘ اور اُس زمانے میں وہاں سورج طلوع ہوتے دیکھتے۔ چند ایک لوگ وہاں نظر آیا کرتے تھے۔ پھر وہاں ہوٹل بنا تو دل اچاٹ ہونے لگا‘ اور پتا نہیں وہ کیسا نوکر شاہ تلاش کرکے لائے تھے کہ ایک کلب اور ایک نظریاتی کونسل کی بڑی عمارت‘ کئی مدرسے اور پتا نہیں کیا کیا وہاں بن گیا۔ کئی سالوں بعد دو مرتبہ وہاں جانا ہوا تو سوچا یہ وہ جگہ نہیں جس کی محبت میں طلوعِ آفتاب سے ایک گھنٹہ قبل گرمیوں اور سردیوں میں جاگنگ کیا کرتے تھے۔ اُسی زمانے میں اُس نوکر شاہ نے اپنے کسی عزیز کو مارگلہ میں ایک ریستوران بنانے کا اجازت نامہ جاری کر دیا۔ لوگ‘ بلکہ بڑے لوگ وہاں جاتے تھے‘ مگر ہمارا دل اس قسم کی ترقی سے اس قدرمایوس تھا کہ کئی بار وہاں تک ٹریل تھری سے گئے‘ مگر ایک کپ چائے پینے کو بھی دل نہ مانا۔ شکر ہے کہ اب وہ وہاں نہیں‘ مگر سنا ہے کہ مارگلہ کا کوئی اور حصہ‘ ظاہر ہے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد‘ بڑوں کے لیے رونقیں بحال کرنے کے لیے تیار ہے۔ اسلام آباد کا بے ہنگم پھیلائو دیکھنا ہو تو جامعہ قائداعظم سے بائی پاس کے اوپر سے گزرتے ہوئے بارہ کہو کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ لیں۔ سوچ آتی ہے کہ حکومت کم از کم نام ہی کی کچھ لاج رکھ لیتی۔ آبادی اب پہاڑوں کی چوٹیوں تک نظر آتی ہے۔ اب اسلام آباد گوجر خان‘ مری‘ فتح جنگ‘ چکری اور ٹیکسلا تک پھیل چکا ہے۔ شہر اس طرح نہیں بنائے یا بسائے جاتے کہ آپ قدرتی وسائل اور فطری خوبصورتی کا جنازہ نکال دیں۔ کون کون سی ملحقہ آبادی کی اب بات کریں کہ اب اسلام آباد کے اندر نالوں کے ساتھ بھی ایسی آبادیاں قائم ہیں جن کے قریب سے گزر کر جھانکیں تو آپ کے لیے انسانیت پر فاتحہ خوانی واجب ہو جاتی ہے۔
یہ صرف اسلام آباد کا مسئلہ نہیں‘ ملک کے ہر شہر کا ہے۔ اس کا جواب تو ہم اُن سے طلب کر ہی نہیں سکتے جو جمہوریت کو بہترین انتقام سمجھتے ہیں‘ مگر تاریخ اور آئندہ آنے والی نسلیں ان کے کرتوتوں کی وجہ سے انہیں یاد رکھیں گی۔ ہم تو بے بس زمینی مخلوق ہیں‘ کیا کر سکتے ہیں ۔ ایسے مضمون لکھتے وقت بعض اوقات خیال آتا ہے کہ کون پڑھے گا‘ کون سوچے گا اور کون شہروں کے بگڑتے ماحول کی طرف توجہ دے گا۔ یقین مانیں‘ انگریز سامراجی حکومت نے جو جنگلات لگائے‘ وہ بھی ہم نے اجاڑ دیے اور ان کی زمینوں پر لوگوں کے قبضے آج تک قائم ہیں۔ مقصد تو یہ تھا کہ آصف محمود کی کاوش کو سراہا جائے اور ان کا شکریہ اس تاریخ نویسی کے ساتھ ٹریل نمبر پانچ کی طرف ایک بار راغب ہو کر ادا کیا جائے۔ کتاب پڑھی تو گزشتہ اتوار کو ٹریل کی طرف چل پڑا۔ لوگوں کا ہجوم اتنا تھا کہ لگا بچے‘ عورتیں اور مکمل خاندان کسی میلے کی طرف جا رہے ہیں ۔ بہت خوشی ہوئی کہ اسلام آباد کے شہریوں کے دل میں مارگلہ کی کشش پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ نوجوانوں کی بھی کمی نہ تھی۔ اس کا آخری حصہ پیر سوہاوہ ہے‘ اور یہ درویش ٹریل کی آخری پہاڑی کے دامن تک بغیر رکے چلتا گیا‘ اپنی رفتار سے۔ تین مرتبہ مختلف جگہوں پر لوگوں نے 'بابے‘ کی عمر دریافت کی‘ اور ہر مرتبہ کہا کہ 'بابا آپ کی عمر کیا ہے؟‘۔ جب ہم کئی عمروں میں بیک وقت اپنے آپ کو تصور کرتے ہیں تو ہمیشہ اپنی پسند کی عمر بتاتے ہیں۔ یہ سننا پڑا کہ یہ تو آپ کی عمر نہیں لگتی۔ اب پتا نہیں اس ٹریل پر کب جاتا ہوں‘ مگر وہ خوبصورت چشمہ‘ بندروں کے غول اور جنگل کے اندر ایک چھوٹا سا تالاب‘ جس کا پانی دیکھ کر تمام تھکن دور ہو جائے‘ اب بھی موجود ہیں۔ ایک دفعہ‘ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے‘ اس ٹریل کی پوری صفائی اپنے دو عزیزوں کے ساتھ مل کر کی تھی۔ اس مرتبہ ہدف اوپر چڑھنا اور سلامت واپس آنا تھا۔ آصف محمودکا شکریہ!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں