گندم پھر مہنگی!
گزشتہ دس روز کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر میں گندم کی قیمت میں فی من سات سو روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مختلف شہروں میں گندم ساڑھے چار ہزار سے اڑتالیس سو روپے فی من تک فروخت ہو رہی‘ جس کے نتیجے میں آٹے کی قیمت بھی براہِ راست متاثر ہوئی ہے۔ فلوز ملز گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ گندم کی قلت کو قرار دے رہی ہیں‘ تاہم محکمہ خوراک کا کہنا ہے کہ صوبے میں آٹے یا گندم کی کوئی کمی نہیں۔ یہی تضاد اصل مسئلہ ہے۔ اگر واقعتاً کوئی قلت نہیں تو پھر قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ کیونکر ہو رہا ہے؟ یہ صورتحال ذخیرہ اندوزی‘ مصنوعی قلت اور کمزور نگرانی کا شاخسانہ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ امر تشویشناک ہے کہ بمپر فصل ہونے کے باوجود تقریباً ہر سال انتظامی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے گندم اور آٹے کا بحران جنم لیتا ہے۔

گزشتہ برس حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت مقرر نہ کیے جانے کے باعث کسانوں نے مجبوری میں اپنی فصل اونے پونے داموں فروخت کی۔ آج وہی گندم ساڑھے چار ہزار روپے فی من تک پہنچ چکی ہے مگر اس کا فائدہ نہ کسان کو ملا اور نہ ہی عوام کو۔ ہمیشہ کی طرح ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور عناصر اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اگر آٹے یا گندم کی کوئی قلت نہیں تو پھر فی الفور قیمتوں میں اضافے کے ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ عوام کو سستی گندم اور سستا آٹا میسر آ سکے۔