برطانیہ میں پی ایچ ڈی ڈگری کیلئے روانگی سے قبل میری پوسٹنگ بطور ڈائریکٹر میڈیا اور ترجمان ایف بی آر اسلام آباد ہیڈ کوارٹرز میں تھی تو ہفتے میں ایک دو مرتبہ ساتھی رفقا کار کے ساتھ سرِ شام ٹریل فائیو پر ہائیکنگ کیلئے جانا میرا معمول تھا۔ گھنے سایہ دار درختوں پر مشتمل اس ٹریک پر آتے جاتے کبھی کبھار جنگلی حیات سے بھی آمنا سامنا ہو جاتا جن میں نادر اقسام کے پرندوں کے علاوہ اپنی روایتی شرارتوں میں مشغول بندر بھی شامل تھے۔ انہی دنوں ہمارے کچھ ساتھیوں نے وہاں ایک عدد چیتے کی آمدورفت کی مصدقہ اطلاعات فراہم کیں اور اس ضمن میں ہمیں مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین بھی کی۔ جہاں اس خبر پر دل میں خوف کی لہر دوڑ گئی وہاں چیتے کے شکار کا سنہری موقع بھی ہاتھ لگ گیا تو میں نے اس سلسلے میں چپ چاپ مگر بھرپور تیاری شروع کر دی۔ سب سے پہلے میں نے پانچ سو روپے خرچ کرکے ایک کھردری ساخت والی مضبوط چھڑی خریدنے کا فیصلہ کیا جس کے چاروں اطراف کم از کم دو دو انچ لمبی نوکیلی شاخوں کو ترچھے انداز میں اس قدر مہارت سے کاٹا گیا تھا کہ اس سے چیتے کی کھال اتارنا انتہائی آسان عمل بن گیا تھا۔ اگلی مرتبہ جب میں یہ منفرد چھڑی لے کر ہائیکنگ کیلئے ٹریل فائیو پر نکلا تو یہ آنے جانے والے تمام لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ چونکہ تقریباً سبھی افراد نے اس ٹریک پر چیتے کی موجودگی کا سن رکھا تھا لہٰذا انہیں اب میرے ارادوں کے بارے میں کسی قسم کا ابہام باقی نہیں رہا تھا۔ اب میں ہائیکنگ کے دوران ٹریک کی دونوں طرف پھیلے ہوئے گھنے درختوں میں جاتی ہوئی پگڈنڈیوں پر مسلسل نظریں جمائے رکھتا کہ شاید چیتے سے دوبدو سامنا ہو جائے اور میں اپنی نوکیلی دھار دار چھڑی سے اس کا شکار کر کے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دوں۔ مگر صد افسوس کہ اسلام آباد میں ایک سال سے زائد عرصہ پوسٹنگ اور ہائیکنگ کے دوران پوری کوشش کے باوجود چیتے سے میرا آمنا سامنا نہ ہو سکا جس کا مجھے اب بھی ملال ہے۔ اب برطانیہ میں رہتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے ٹریل فائیو اور ٹریل تھری پر اسی چیتے سے متعلق خبریں ملتی رہتی ہیں تو دل کے ارمان پھر جاگ اٹھتے ہیں اور شکار کی وہ حسرتِ نارسا دوبارہ تازہ ہو جاتی ہے۔ اب اطلاعات یہ ہیں کہ وفاقی دارالحکومت میں جنگلی جانوروں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا ہے کیونکہ چند روز قبل دن دہاڑے ایک سور کو ریڈ زون میں واقع شاہراہ دستور کو کراس کرتے ہوئے دیکھا گیا جس منظر کو لوگوں نے اپنے موبائل فون کے کیمروں میں محفوظ کرکے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔ چیتے کے ساتھ ساتھ ایک سور کے اس طرح آزاد دندناتے پھرنے کی وڈیو اسلام آباد کے مکینوں کے ساتھ ساتھ شہری انتظامیہ کیلئے بھی یقینی طور پر تشویش کا باعث بنی ہو گی۔
دوسری جانب گزشتہ چند دنوں سے مختلف ٹیلی ویژن چینلز اور سوشل میڈیا پر اسلام آباد میں لگ بھگ 29 ہزار درختوں کی کٹائی پر بھانت بھانت کے تبصرے اور جائزے سننے کو ملے ہیں۔ بندہ بندہ درختوں کی کٹائی پر نوحہ کناں ہے اور اسے درختوں کے قتلِ عام سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ ہر دوسرا شخص شہری انتظامیہ پر تبرا بر سا رہا ہے۔ اس ضمن میں انتظامیہ کو اپنا تفصیلی مؤقف میڈیا کے سامنے رکھنا چاہیے۔ اس موضوع پر غور وفکر کرنے پر سب سے پہلے مجھے ٹریل فائیو پر اپنی ہائیکنگ اور چیتے کی یاد آگئی۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ واک اور ہائیکنگ جیسی صحت مندانہ سرگرمیوں کیلئے ہائیکنگ ٹریلز کو محفوظ بنانا ناگزیر ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ چیتے اور سور جیسے خطرناک جنگلی جانوروں کی موجودگی اور ان کی بڑھتی ہوئی آوارہ گردی پر انتظامیہ نے سخت ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو شہریوں کیلئے محفوظ بنانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں پہلے مرحلے میں شہر کے مختلف مقامات پر موجود پرانے اور بانجھ درختوں کو کاٹنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی وضع کی ہے تاکہ گھنے جنگلات میں پائے جانے والے خطرناک جنگلی جانوروں کی نقل و حرکت پر مسلسل کڑی نظر رکھی جا سکے۔ اس کے علاوہ درختوں کی کٹائی کی دوسری بڑی وجہ دہائیوں پر محیط پولن الرجی ہے جو جنگلی شہتوت کے درختوں سے پھیلتی ہے جس کے باعث مبینہ طور پر شہر کی تقریباً ایک تہائی آبادی دمہ اور سانس کی دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو چکی ہے۔ اب تک یہ مہلک پولن الرجی جانے کتنے لوگوں کی زندگیوں کو نگل چکی ہے اور ہزاروں افراد اب بھی اس سے متاثرہ ہیں۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ جنگلی شہتوت کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں شیشم اور کچنار کے درخت بھی کٹ گئے ہیں جو ٹھیکیداروں کی نالائقی اور مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ درخت کاٹنے والوں نے از خود یہ سوچا ہو کہ اسلام آباد جیسے خوبصورت‘ جدید اور بین الاقوامی شہرت کے حامل شہر میں شیشم جیسے پرانے اور دقیانوسی قسم کے درخت کہاں بھلے لگتے ہیں۔ چونکہ اب رنگین پتوں والے دیدہ زیب اور سایہ دار درخت عام ملتے ہیں جنہیں شیشم کی جگہ لگا کر شہر کی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگائے جا سکتے ہیں۔ کٹائی پر مامور افراد نے یہ امر بھی ملحوظ خاطر رکھا ہو گا کہ مزید شجر کاری کرنے کیلئے کچھ خالی جگہ بھی درکار ہوتی ہے اور پرانے درختوں کو کاٹے بغیر بھلا اسی جگہ نئے درخت کیسے اگائے جا سکتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں درخت کاٹنے والوں کی نیت پر خواہ مخواہ شک کرنے کے بجائے اس تعمیری اور مثبت اقدام پر انہیں دل کھول کر داد و تحسین دینی چاہیے۔
درختوں کی کٹائی پر نوحہ کناں ناقدین نے شہری انتظامیہ پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ دنیا کے دوسرے سب سے زیادہ خوبصورت دارالحکومت اور سر سبزو شاداب شہر اسلام آباد کو کنکریٹ اور سریے کے پہاڑ میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف انتظامیہ کا موقف ہے کہ کٹائی کے بعد ان درختوں کے متبادل چالیس ہزار نئے درخت لگا ئے ہیں‘ جس کیلئے شجر کاری مہم کیلئے مناسب موسم بہار کا انتظار بھی نہیں کیا گیا بلکہ سخت سردی میں درخت لگا کر نہ صرف شجر کاری کا اک نیا ٹرینڈ متعارف کرایا گیا ہے اوراپنے اس انتہائی ماحول دوست اقدام سے اپنے ناقدین کو خاموش بھی کروا دیا ہے۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ شہری انتظامیہ اسلام آباد میں ایک عالمی معیار کا کرکٹ سٹیڈیم تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں فائیو سٹار ہوٹلز بھی شامل ہوں گے تاکہ غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کیلئے بین الاقوامی معیار کی سہولتوں کے ساتھ ساتھ ان کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں اس سے وطن عزیز میں بین الاقوامی کرکٹ کی صحیح معنوں میں واپسی ممکن ہو سکے گی اور عالمی سطح پر پاکستان کا سافٹ امیج بھی اجاگر ہو گا۔ مزید برآں پارک روڈ سے رہائشی سوسائٹیوں کو مناسب راستہ دینے کی غرض سے کچھ درخت کاٹ کر دراصل شہری انتظامیہ نے پاکستانی سرمایہ کے بیرونِ ملک اڑان کا راستہ روکنے کی مخلصانہ کوشش ہے۔ ان سوسائٹیوں میں کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی تو تعمیر سے وابستہ کم و بیش چالیس دیگر شعبوں میں روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور پاکستانی سرمایہ دار طبقہ بیرونی ممالک میں جائیدادیں خریدنے کے بجائے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہی اپنی سرمایہ کاری کو یقینی بنائے گا۔ حسنِ ظن رکھیں تو یہی لگتا ہے کہ انتظامیہ نے درختوں کی کٹائی کا فیصلہ کرتے وقت اسلام آباد شہر کی خوبصورتی‘ اس کے مکینوں کی صحت و تحفظ اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کو ہی اولین ترجیحات بنایا ہو گا۔ اب یہ معاملہ پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جا چکا اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک ماحول دوست شہری نے درخواست بھی دائر کر دی ہے جس کے نتیجے میں اگلے کچھ دنوں میں مزید حقائق سامنے لائے جائیں گے اور یہ طے ہو جائے گا کہ اس میڈیا ہائپ کی آڑ میں نشانہ شہری انتظامیہ تھی یا کوئی اور۔