سانحۂ گل پلازہ

روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجانے میں مصروف تھا۔ وطنِ عزیز میں بھی گڈ گورننس کی راگنی تو بہت گائی جاتی ہے مگر کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ان تمام تر دعووں کی اصل حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ خوفناک حادثات اور المناک سانحات میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان کے باعث ہنستے بستے گھر اُجڑ جاتے ہیں‘ مائیں بیٹوں سے محروم ہو جاتی ہیں‘ بچے زندگی بھر کیلئے بے سہارا ہو جاتے ہیں جبکہ ضعیف العمر والدین سے ان کے بڑھاپے کا سہارا چھن جاتا ہے۔ ان بدقسمت متاثرہ گھرانوں میں رنج و الم کے آسیب اپنے سائے دراز کر لیتے ہیں اور خوشیوں کے موسم ہمیشہ کیلئے روٹھ جاتے ہیں۔ کوئی بھی سانحہ بے سبب نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے ہر سانحے کے پیچھے دہائیوں کی بدانتظامی اور متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت اور نااہلی کار فرما ہوتی ہے۔ ہم ایک حادثے سے نکل کر اس سے بڑے سانحے کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ متاثرہ گھرانوں میں صفِ ماتم بچھ جاتی ہے اور لوگ اپنے جان سے پیاروں کی یاد میں ہمیشہ کیلئے نوحہ کناں رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مگر ہم ہیں کہ ان اندوہناک سانحات سے کچھ سیکھنے کے بجائے سب اچھا کی رٹ لگانے پر تلے رہتے ہیں۔ محمد علی جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کراچی کے مصروف ترین شاپنگ مالز میں سے ایک تھا‘ جس میں گزشتہ ہفتے کی رات دس بجے کے قریب اچانک آگ بھڑک اٹھی اور اس نے چند گھنٹوں میں سارے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کم و بیش بارہ سو دکانوں پر مشتمل اس شاپنگ مال میں موجود دکانداروں کے ساتھ ساتھ بیسیوں گاہک بھی بھڑکتی آگ کے شعلوں میں پھنس کر رہ گئے جنہیں سب سے پہلے پلازہ کی انتظامیہ کمیٹی کے کچھ اراکین نے باہر نکالنے کی کوشش کی‘ بعد میں فلاحی تنظیموں کے رضاکاروں اور ریسکیو اداروں کے اراکین نے اس آپریشن میں حصہ لیا اور بیشتر افراد کو موت کے منہ سے نکلنے میں مدد فراہم کی۔ مگر کئی کم نصیب ان جان لیوا شعلوں کی نذر ہو گئے۔ آخری اطلاعات کے مطابق اب تک 65 سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے اور تقریباً اتنے ہی ابھی تک لاپتا ہیں۔ اب ملبے سے لاشوں کی باقیات مل رہی ہیں جن سے جان کی بازی ہارنے والوں کی شناخت ممکن نہیں ہے۔
شہرِ قائد میں اس سے پہلے بھی دہشت ناک آتشزدگی کے کئی واقعات ہو چکے ہیں جن میں بلدیہ ٹاؤن فیکٹری‘ آر جے مال‘ کار ساز اور عائشہ منزل کے سانحات شامل ہیں مگر کراچی انتظامیہ نے ان لرزہ خیز حادثات سے کچھ نہیں سیکھا۔ گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر اور وڈیوز دیکھنے کے بعد قلب و روح لرز کر رہ گئے ہیں۔ جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق آگ میں پھنسے ہوئے لوگوں کی آہ و بکا اور بے کسی عیاں ہے۔ وہ گھنٹوں مدد کیلئے دہائیاں دیتے رہے اور پھر ان کی آوازیں ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گئیں۔ آگ کے شعلوں میں گھرے افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھا کر ان کی سلامتی کیلئے دعائیں مانگتے اور انتظامیہ سے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کی التجائیں کرتے رہے جبکہ دوسری طرف بدانتظامی بامِ عروج پر نظر آئی۔ مبینہ طور پر آگ پر قابو پانے کیلئے آنے والے فائر ٹینڈر کبھی پانی کے بغیر ملے تو کبھی ڈیزل کی قلت کے باعث حرکت کرنے کے قابل نہ تھے۔ ستم ظریفی دیکھیں کہ آگ بجھانے والے عملے کے پاس سیفٹی کٹ تو درکنار آکسیجن ماسک تک نہیں تھے۔ عینی شاہدین اور متاثرہ افراد کے مطابق مبینہ طور پر پہلی فائر بریگیڈ گاڑی جائے حادثہ پر تقریباً ایک گھنٹہ لیٹ پہنچی جبکہ اس میں پانی بھی پوری مقدار میں موجود نہیں تھا۔ دیگر گاڑیاں مزید تاخیر کا شکار ہوئیں اور یوں ابتدائی چار سے پانچ گھنٹوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بروقت فیصلے کیے گئے نہ ہی مؤثر حکمت عملی وضع کرکے ضروری وسائل کی فراہمی یقینی بنائی گئی جس کے نتیجے میں پلازہ میں پھنسے لوگوں کو آگ کے شعلوں سے بچا کر بحفاظت باہر نکالنا انتہائی دشوار ہو گیا۔ کثیر جانی نقصان کے علاوہ اس غیرمؤثر کارروائی کے باعث بارہ سو دکانوں میں موجود اربوں‘ کھربوں مالیت کا قیمتی سامان جل کر راکھ ہو چکا جبکہ ہزاروں افراد روزگار سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔
گل پلازہ میں ہونے والی آتشزدگی اور اس کے باعث ہونے والے بے پناہ جانی و مالی نقصانات کے نتیجے میں متعلقہ اداروں کی استعدادِ کار‘ درکار وسائل اور مؤثر اور بروقت فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کے فقدان سے متعلق کئی بنیادی سوالات نے جنم لیا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کربناک سانحہ سے متعلق ایک بااختیار انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے جو اپنی مفصل رپورٹ میں انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی غیرمؤثر کارکردگی کا جائزہ لے اور ذمہ داروں کے خلاف حسبِ ضابطہ کارروائی کی سفارشات مرتب کرے۔ سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ کیا گل پلازہ کی عمارت میں خارجی راستوں کی موجودگی اور نشاندہی کے ساتھ ساتھ فائر سیفٹی کے حوالے سے ضروری سازو سامان کی فراہمی یقینی بنائی گئی تھی؟ آگ لگنے کے بعد پلازے کے خارجی دروازوں کو کیوں نہ کھو لا گیا‘ کیا اس ضمن میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کبھی کوئی ریہرسل کی گئی تھی؟ کیا گل پلازہ انتظامیہ نے ہنگامی حالات کے دوران خارجی راستوں سے متعلق دکانداروں اور خریداروں کی رہنمائی کا بندوست کر رکھا تھا؟ یہ بھی جاننا ضروری ہو گا کہ آتشزدگی کے بعد فائر بریگیڈ تاخیر سے کیوں پہنچی اور کیا عملے کے پاس آگ پر قابو پانے کیلئے درکار وسائل موجود تھے اور اگر موجود تھے تو انہیں بروقت بروئے کار کیوں نہیں لایا جا سکا؟ ان سب سوالات کے جوابات اہم ہیں۔ اِس وقت بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی‘ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی کارکردگی عوامی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہے۔ سوشل میڈیا پر ناقدین نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس مالی وسائل کی کمی نہیں مگر اس کے باوجود کراچی انتظامیہ کے پاس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے درکار ضروری وسائل‘ مؤثر منصوبہ بندی‘ مربوط حکمت عملی اور مہارتوں کا فقدان نظر آتا ہے۔ یہی بحث اب ایوانِ اقتدار میں بھی پہنچ چکی کیونکہ آگ پر قابو پانے میں کم و بیش 36 گھنٹے صرف ہوئے جس کے نتیجے میں درجنوں قیمتی انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ کھربوں روپے مالیت کی دکانیں جل کر خاکستر ہو گئی ہیں۔ بلاشبہ یہ جانی اور مالی نقصانات ناقابلِ تلافی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس لرزہ خیز آتشزدگی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاری سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کو بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کی جائے۔ کراچی سمیت ملک بھر میں کمرشل عمارتوں اور شاپنگ مالز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور ان میں ہنگامی خارجی راستوں کی موجودگی اور نشاندہی کے ساتھ ساتھ آگ بجھانے والے آلات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اس کے علاوہ دکانداروں اور عوام الناس میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے آگاہی مہم شروع کی جائے اور تمام بڑے پلازوں میں وقتاً فوقتاً فائر ڈرلنگ کا اہتمام یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے انتظامیہ‘ تاجر برادری اور شہری ہمہ وقت تیار رہیں۔ یاد رہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے ہنگامی حالات میں اپنی کارکردگی جانچنے کیلئے مسلسل مصنوعی ڈرلز کرتے رہتے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جا سکے اور کسی حادثے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے امکانات کو کم تر کیا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں