اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پائیدار معاشی ترقی اور چیلنجز

ورلڈ بینک کی ’گلوبل اکنامک پراسپیکٹس‘ رپورٹ میں مالی سال 2026ء کیلئے پاکستان کی شرحِ نمو تین فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بلند افراطِ زر‘ قرضوں کی ادائیگی کے دباؤ اور غیر یقینی سیاسی صورتحال کو پاکستانی معیشت کیلئے بڑے خطرات میں شمار کیا گیا ہے۔ اگرچہ مذکورہ رپورٹ میں عالمی سطح پر بھی اقتصادی مندی اور محدود شرح نمو کا اندازہ لگایا گیا ہے اور گلوبل معاشی شرحِ نمو 2.6 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا‘ جو آئندہ سال بڑھ کر 2.7فیصد ہو سکتی‘ تاہم یہ انتباہ بھی دیا گیا ہے کہ عالمی مندی کے سبب ترقی پذیر ممالک میں معیارِ زندگی کا فرق مسلسل بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نجی شعبے کیلئے اصلاحات سے روزگار کے مواقع اور معاشی ترقی میں اضافہ ممکن ہے۔ گزشتہ برس جون میں عالمی بینک نے معاشی شرح نمو کا تخمینہ 3.1 فیصد لگایا تھا جبکہ اب صفر اعشاریہ ایک فیصد کی کمی بظاہر چھوٹی تبدیلی معلوم ہوتی ہے مگر اسکے پیچھے پوشیدہ معاشی اشاریے مستقبل کے حوالے سے اہم پیغامات کے حامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے اقتصادی ترقی کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے‘مگر ورلڈ بینک کا تخمینہ حکومتی ہدف سے 1.2 فیصد یعنی 28 فیصد کا فرق ظاہر کرتا ہے‘ جو ایک نمایاں فرق ہے۔ اگرچہ اس کمی میں گزشتہ برس آئے سیلاب کے اثرات کا بھی عمل دخل ہے مگر ایسے عارضی یا وقتی عوامل کے بجائے ملکی اقتصادیات کیلئے بڑا خطرہ وہ عوامل ہیں جو معیشت کا اب مستقل حصہ بن چکے ہیں یعنی مہنگائی کا دباؤ‘ بیرونی ادائیگیاں‘ سکڑتی برآمدات اور درآمدات کا پھیلائو وغیرہ۔

ترسیلاتِ زر نے ملکی معیشت کو اس وقت بڑا سہارا فراہم کر رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بڑھتا تجارتی خسارہ بڑا معاشی خطرہ محسوس نہیں ہو رہا مگر ترسیلاتِ زر کے سہارے معاشی استحکام کا حصول ممکن نہیں ہے۔ ترسیلاتِ زر میں اضافہ ایک نعمت غیر مترقبہ ضرور سہی‘ مگر یہ ہمارے معاشی مسائل کا پائیدار اور دیرپا حل نہیں۔ ہمیں اس سہولت کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے معاشی مسائل کے پائیدار حل کی جانب متوجہ ہونا ہے۔ عالمی بینک کی یہ رپورٹ اس بات کا بھی اظہار ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور استحکام کو اب بھی خطرات سے دوچار دیکھ رہے ہیں۔ ایسی معیشت جو عالمی تجارتی پالیسیوں اور اندرونی چیلنجوں کی وجہ سے کسی بھی وقت خطرات کے بھنور کا شکار ہو سکتی ہے۔ جب بھی معاشی مسائل‘ دیرینہ عوارض اور ان کے حل کی بات آئے تو حکومت حالتِ انکار میں چلی جاتی ہے۔ حالانکہ مسئلے سے چشم پوشی اور اس کے وجود سے انکار اس کی سنگینی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ سب سے پہلے حکومت کو کھلے دل سے معاشی مسائل کا اعتراف کرنا چاہیے۔ اگرچہ دو روز قبل وزیر خزانہ نے بلند ٹیکس ریٹ اور توانائی کی قیمتوں کو پیداواری ترقی کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ قرار دیا مگر یہ کافی نہیں ہے۔ اربابِ اختیار کو ملکی اقتصادیات کا عمیق جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

معاشی سٹیک ہولڈرز اور پالیسی سازوں میں دو طرفہ تعلق اور ہم آہنگی مسائل سے آگاہی اور انکے پائیدار حل کی راہ فراہم کر سکتی ہے۔ اقتصادی پالیسیاں ایسی ہونی چاہئیں جو نجی شعبے کی سرپرستی کریں نہ کہ اسے معاشی نظام سے متنفر کریں۔ ڈیجیٹائزیشن بھی معاشی ترقی کا اہم تقاضا ہے۔ حکومت کو خود کو معاشی اہداف طے کرنے تک محدود رکھنے کے بجائے ان اہداف کے حصول کیلئے عملی اقدامات کو اپنی ترجیح بنانا چاہیے۔ نیز سیاسی استحکام کو بھی معاشی تسلسل اور پائیدار اقتصادی ترقی کا لازمی جزو سمجھنا چاہیے۔ عالمی ادارے مسلسل داخلی چیلنجز کی جانب توجہ مبذول کرا رہے ہیں مگر یہ اہم نکتہ اب تک حکومتی ترجیحات سے باہر نظر آتا ہے۔ یہ درست ہے کہ فی الوقت میکرو اکنامک اشاریے مثبت ہیں اور کوئی بڑا چیلنج معیشت کو درپیش نہیں مگر یہ رپورٹ ایک انتباہ ضرور ہے کہ پائیدار ترقی کیلئے معیشت کو مزید گہری اصلاحات کی ضرورت ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں