اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ہسپتالوں سے شکایات

وزیراعلیٰ پنجاب کے سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میں سرکاری ہسپتالوں کے 36فیصد مریضوں نے ہسپتالوں میں مفت ادویات کی عدم دستیابی اور 31فیصد نے طبی عملے کے نامناسب رویے کی شکایت کی۔ دیگر مسائل میں طویل انتظار‘ رشوت ستانی‘ بیڈز اور سامان کی کمی شامل ہیں۔ نظام صحت میں نہ صرف طبی سہولیات کی کمی ہے بلکہ انتظامی سطح پر بھی سنگین کوتاہیاں موجود ہیں۔ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات اور دیگر طبی سہولیات کی فراہمی اور طبی عملے کی تربیت کا بندوبست کرے۔ طبی سہولتوں کی کمی کسی ایک صوبے کا مسئلہ نہیں‘ 2024ء میں عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے صحت کی سہولیات کے حوالے سے جاری کردہ درجہ بندی میں 169 ممالک کی فہرست میں پاکستان 124ویں نمبر پر تھا۔

اس صورتحال کے تناظر میں ملک کے نظامِ صحت پر فوری نظر ثانی کی ضرورت ہے ‘ لیکن ہمارے ہاں صحت کا شعبہ حکومتی ترجیحات میں بہت پیچھے ہے۔ بیشتر ہسپتالوں میں انفراسٹرکچر خستہ حال ہے‘ طبی آلات کی کمی‘ دواؤں کی ناقص فراہمی اور عملے کی شدید قلت سمیت بے شمار مسائل درپیش ہیں۔ اگرچہ صوبائی حکومتوں نے رواں مالی سال کیلئے صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا ہے لیکن ضروری ہے کہ ان فنڈز کا شفاف استعمال یقینی بناتے ہوئے سرکاری ہسپتالوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے‘ مفت اور ادویات کی فراہمی اور طبی عملے کی تعداد اور تربیت پر توجہ دی جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں