ترسیلی نظام کے نقائص
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے ناقص ترسیلی نظام کو ملک میں مہنگی بجلی کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ نیپرا کے مطابق ملک کے بیشتر گرڈ سٹیشن اور پاور ٹرانسفارمر اپنی استعداد سے 80فیصد زائد صلاحیت پر کام کر رہے ہیں جس سے ترسیلی نظام میں تکنیکی خرابی‘ وولٹیج میں کمی اور لوڈ شیڈنگ کا خطرہ بڑھتا ہے۔نتیجتاً سستی اور نسبتاً کم لاگت والی بجلی عوام تک نہیں پہنچ پاتی۔ قومی ٹرانسمیشن نظام کئی برسوں سے گنجائش سے زیادہ بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ پرانی لائنیں‘ محدود استعداد کے گرڈ سٹیشنز اور بروقت توسیع نہ ہونے کے باعث بجلی کا بہاؤ اکثر رکاوٹوں کا شکار رہتا ہے جبکہ اس وجہ سے ہونیوالے لائن لاسز کا سارا بوجھ مختلف ٹیکسوں کی صورت میں صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔

صارفین اس وقت بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 27روپے سے زائد ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف عوام بلکہ قومی معیشت کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔ صنعتوں کو مہنگی اور غیرمستحکم بجلی ملنے سے پیداواری لاگت بڑھتی ہے‘ مسابقت کم ہوتی ہے اور برآمدات متاثر ہوتی ہیں۔ ضروری ہے کہ حکومت بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری پر توجہ مرکوز کرے۔ نئے گرڈ سٹیشنز کی بروقت تعمیر‘ پرانی لائنوں کی اَپ گریڈیشن‘ جدید مانیٹرنگ سسٹمز کی تنصیب اور منصوبوں میں غیرضروری تاخیر کے خاتمے کے بغیر بجلی سستی نہیں ہو سکتی۔