قومی سلامتی کی ترجیحات
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی سلامتی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے متحد ہو کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ گزشتہ روز کے پی نیشنل ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے افغانستان سے شدت پسندوں کو لا کر بسانے کے فیصلے پر بھی تنقید کی اور اسے ملک میں دہشت گردی میں تشویشناک اضافے کا سبب قرار دیا۔ ملک عزیز میں گزشتہ چند برسوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے متعدد اسباب اور وجوہات ہیں‘ کابل میں طالبان کی عبوری حکومت کا قیام اور طالبان رجیم کا ٹی ٹی پی کیلئے نرم گوشہ سب سے بڑی وجہ ہے جس کے اثرات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سلامتی کے خطرات سے نمٹنے اور امن وامان بحال کرنے کیلئے وفاقی حکومت کا کردار اہم ہے۔ ہر دو صوبے ملک کے باقی حصوں کے مقابلے میں ترقی میں پیچھے اور وسائل کی محرومی کا شکار رہے ہیں۔ انہی اسباب کو دہشت گردی کے واقعات کے محرکات کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یہ دو صوبے جو دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں بیروزگاری‘ غربت اور سماجی پسماندگی میں بھی سب سے زیادہ تشویشناک حالت میں ہیں۔ قومی سلامتی کی کوئی حکمت عملی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک ان علاقوں میں روزگار کے مواقع اور عوام کی معاشی‘ تعلیمی اور سماجی حالت کی بہتری کیلئے اقدامات نہیں کئے جاتے۔ سکیورٹی فورسز کی آپریشنل کارروائیوں سے دہشت گردوں کا صفایا کیا جاسکتا ہے مگر سوسائٹی میں سے شدت پسندوں کی بیخ کنی کیلئے لوگوں کو معاشی‘ سماجی اور تعلیمی لحاظ سے ترقی دینا ہو گی۔ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کو صوبے میں ضم کرنے کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ افغان سرحد کے ساتھ ملے ہوئے ان علاقوں کو صوبے کے ساتھ معاشی‘ سیاسی اور انتظامی حوالے سے منسلک کر دیا جائے اورصوبائی حکومت ان علاقوں کے امور کی براہ راست نگرانی کرے۔ مگر فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کے یہ مقاصد پورے نہیں ہو سکے۔ علاقے میں تعلیم‘ صحت اور روزگار کے وہ مواقع فراہم نہیں کئے جا سکے جن کی اشد ضرورت تھی۔
وفاقی حکومت اور دیگر صوبوں نے قبائلی پٹی کی ترقی میں حصہ ڈالنے کیلئے قابل تقسیم محاصل سے حصہ دینے کی ہامی بھری مگر قبائلی پٹی کی ترقی اور خوشحالی اور اس اہم سٹرٹیجک اور معدنی وسائل کے حامل علاقے کو ملک کے باقی علاقوں کے برابر لانے کیلئے جوکچھ کیا جانا ضروری تھا وہ نہیں ہو سکا۔ افغانستان کی جانب سے دراندازی کی روک تھام کیلئے قبائلی پٹی میں مضبوط اور مؤثر گورننس اور عوامی سہولتوں اور ترقی کے مواقع کی اشد ضرورت ہے۔ یہ دہشت گردی کے خلاف ملک کی پہلی مضبوط دفاعی لائن ثابت ہو گی۔ اس میں دو رائے نہیں کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کا مقابلہ قومی اتحاد اور یکجہتی سے ممکن ہے؛ چنانچہ سیاسی جماعتوں کو قومی اہمیت کے معاملات میں اختلافات سے بالاتر ہو کر سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے سیاسی اختلافات کی نوعیت جو بھی ہو مگر صوبے کی سلامتی اور دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے صوبے اور وفاق کا ایک پیج پر ہونا ناگزیر ہے۔
اس سلسلے میں ہر دو فریقوں کو انا کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ بات جب قومی امور کی ہو تو ذاتیات سے اوپر اٹھ کر فیصلوں اور اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے اس مفاہمتی رویے کی اشد ضرورت ہے۔ خوش قسمتی سے بلوچستان میں ایسی خلیج نظر نہیں آتی جس کے اثرات وہاں وفاقی حکومت کے تعاون سے متعدد منصوبوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور وفاق کو فاصلے کم کرنے کی ضرورت ہے۔