بیرونی سرمایہ کاری میں کمی
سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 43 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔ جولائی تا دسمبر کے دوران ملک میں کل بیرونی سرمایہ کاری 80کروڑ 80لاکھ ڈالر تک محدود رہی‘ جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ ایک ارب 42کروڑ ڈالر سے زائد تھی۔ یہ اعداد و شمار بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کی عکاسی کرتے ہیں۔بیرونی سرمایہ کاری میں کمی کا براہِ راست اثر مقامی سرمایہ کاری پر بھی پڑتا ہے‘ جس کے نتیجے میں مجموعی معاشی سرگرمیاں سست ہو جاتی ہیں اور ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں کمی ملک کی معاشی ترقی اور استحکام کیلئے ایک سنگین انتباہ ہے۔ سرمایہ کاری میں کمی کی بنیادی وجوہات میں حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل‘ قانونی پیچیدگیاں‘ بدعنوانی‘ مہنگی توانائی‘ انفراسٹرکچر کے مسائل اور سکیورٹی خدشات وغیرہ شامل ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ ایسے ٹھوس اقدامات کرے جو عملی طور پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کریں۔ اس میں حکومتی پالیسیوں کا تسلسل‘ شفافیت‘ سرمایہ کاری کا آسان طریقہ کار اور قانونی تحفظ شامل ہونا چاہیے۔ جولائی تا دسمبر کے دوران مالیاتی اور خوراک کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر مناسب مواقع اور یقین دہانی فراہم کی جائے تو سرمایہ کار ملک کے باقی شعبوں میں بھی دلچسپی لے سکتے ہیں۔ خصوصی اقتصادی زونز‘ آسان قرضوں کے منصوبے اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے عملی اقدامات ملک کو غیرملکی سرمایہ کاری کا مرکز بنا سکتے ہیں۔