اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

کھلے مین ہولز اور انتظامیہ کی غفلت

لاہور میں ماں اور بیٹی کے کھلے مین ہول میں گرنے کا دلخراش واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ تعمیراتی کاموں میں برتی جانے والی انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس واقعے کا ایک افسوسناک پہلو ابتدائی طور پر انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت تھی‘ جس نے واقعہ کی صحت سے انکار کرتے ہوئے اسے فیک نیوز قرار دیا جس سے ریسکیو آپریشن تاخیر کا شکار ہوا۔ اگرچہ پنجاب حکومت کی جانب سے توسیعی منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کو غفلت کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا جس نے تعمیراتی سائٹ پر خاطر خواہ حفاظتی اقدامات نہیں کیے تاہم یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔

ہر سال ملک بھر میں درجنوں افراد کھلے مین ہولز اور نالوں میں گر کر جاں بحق یا زخمی ہو جاتے ہیں۔ ایسے حادثات کے بعد حکومت کی جانب سے چند افراد کو معطل کر کے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر مسئلے کے مستقل حل پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ ہر صوبے میں سیوریج سے متعلقہ الگ محکمہ موجود ہے مگر کھلے مین ہولز ان اداروں کی انتظامی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ ضروری ہے کہ ان محکموں کو مین ہولز پر بروقت ڈھکن لگانے کا پابند بنایا جائے اور غفلت برتنے پر متعلقہ افراد کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ علاوہ ازیں تعمیراتی منصوبوں میں حفاظتی قواعد و ضوابط پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ لاپروائی کرنیوالوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں